ایرانی ایٹمی پلانٹ پر حملے کی صورت میں جوہری تباہی کا سامنا ہوگا، آئی اے ای اے کا انتباہ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 June, 2025 سب نیوز

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کے جنوبی شہر بوشہر میں واقع ایٹمی بجلی گھر کو نشانہ بنایا، تو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک تباہ کن جوہری حادثے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی ایران پر جاری ایک ہفتے سے بمباری، جس میں جوہری تنصیبات بھی شامل ہیں، کے باوجود اب تک تابکاری کا کوئی اثر ریکارڈ نہیں ہوا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اگر بوشہر کے ایٹمی ری ایکٹر پر براہِ راست حملہ کیا گیا، تو اس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

رافائل گروسی کا کہنا تھا کہ ’’بوشہر ایک مکمل سول نیوکلیئر ری ایکٹر ہے، جہاں ہزاروں کلوگرام جوہری مواد موجود ہے، اور اگر وہاں حملہ ہوتا ہے تو اس سے تابکاری کا بہت بلند سطح پر اخراج ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے کئی ممالک نے ان سے رابطہ کر کے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گروسی نے متنبہ کیا کہ یہاں تک کہ اگر اسرائیل صرف بوشہر کو بجلی فراہم کرنے والی لائنوں کو نشانہ بناتا ہے، تو بھی بجلی کی بندش کے باعث ری ایکٹر میں ’میلٹ ڈاؤن‘ جیسا خطرناک واقعہ پیش آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدترین صورتِ حال میں بوشہر کے اردگرد کئی سو کلومیٹر کے علاقے میں بڑے پیمانے پر انخلا اور شہریوں کو پناہ لینے کے احکامات جاری کرنا پڑیں گے، جس میں خلیجی ممالک کے اہم شہر بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ عوام کو آیوڈین کی گولیاں دینا اور خوراک کی فراہمی پر بھی پابندیاں لگانا پڑ سکتی ہیں۔

بوشہر ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز 1970 کی دہائی میں ایران کے اُس وقت کے مغرب نواز شاہ نے کیا تھا، جبکہ بعد ازاں 1990 کی دہائی سے روس کے تعاون سے اس منصوبے کو مکمل کیا گیا۔

آئی اے ای اے کے سربراہ نے زور دیا کہ اس معاملے کا حل صرف سفارتکاری سے نکل سکتا ہے اور وہ خود بھی مذاکرات کے لیے سفر کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایجنسی ایک فول پروف انسپکشن سسٹم کے ذریعے ضمانت دے سکتی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا۔‘‘

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراستنبول میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس، ایران و غزہ صورتحال پر توجہ مرکوز اسرائیلی وزیر دفاع کا ایران کی قدس فورس کے سربراہ کو شہید کرنے کا دعویٰ، اصفہان میں نیو کلیئر سائٹ پر بھی حملہ آئینی بنچ کی مدت میں توسیع پر جسٹس منصور علی شاہ کے تحفظات، جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ، قومی قیادت کا خراجِ عقیدت ایران کے جوہری پروگرام کو دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے، اسرائیل کا دعویٰ پاکستان کا یو این سلامتی کونسل سے اسرائیلی جارحیت رکوانے کا مطالبہ دیربالا اور کوہستان میں شدید بارش، سیلابی صورتحال سے تباہی، بچہ جاں بحق TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ا ئی اے ای اے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل