حیفا میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، یہاں کچھ بھی محفوظ نہیں، میئر
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا "اگر میں دیگر شہروں کے میئرز کو مشورہ دینا چاہوں جو نشانے پر ہیں، تو میں انہیں 106 ایمرجنسی سنٹر میں نفسیاتی ماہرین تعینات کرنے کا مشورہ دوں گا، تاکہ شہریوں کو پرسکون کیا جا سکے اور انہیں شہر چھوڑنے سے روکا جا سکے۔" اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے ساحلی شہر حيفا کے میئر نے یونا یاہو نے ایرانی میزائل حملے کے بعد شہر کے مرکز میں ہونے والی شدید تباہی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہ راست نشانہ بننے والے علاقے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ یہاں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ حيفا کے میئر یونا یاہو نے اسرائیلی اخبار "دافار" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مرمت کے کام شروع ہو گئے ہیں، لیکن تباہی کے اثرات اب بھی واضح ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی چیز محفوظ نہیں، لوگ خوفزدہ ہیں، اور ان کا خوف جائز ہے۔ ہم اس جنگ کے ختم ہونے کے بعد ہی بحال ہو سکتے ہیں۔ یاہو نے اشارہ کیا کہ بلدیہ کی ٹیمیں بتدریج گلیوں میں زندگی بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں، لیکن سب سے بڑی کمی شہر کے وہ باشندے ہیں جو ہفتے کے دنوں میں یہاں اکٹھا ہوا کرتے تھے۔ آج صرف چند ہی لوگ کافی شاپس اور دکانوں تک گئے، جو محتاط انداز میں کھلی تھیں۔ اخبار کے مطابق، ایرانی میزائل نے "ایک حساس علاقے" کو نشانہ بنایا۔ یاہو نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم اور کئی وزراء کی فون کالز موصول ہوئیں اور انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی مرمت، خاص طور پر سڑکوں کی مرمت کے لیے فوری مالی امداد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا، "اگر میں دیگر شہروں کے میئرز کو مشورہ دینا چاہوں جو نشانے پر ہیں، تو میں انہیں 106 ایمرجنسی سنٹر میں نفسیاتی ماہرین تعینات کرنے کا مشورہ دوں گا، تاکہ شہریوں کو پرسکون کیا جا سکے اور انہیں شہر چھوڑنے سے روکا جا سکے۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے یاہو نے جا سکے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔