وزیر داخلہ سندھ کا محکمہ پولیس میں ایمانداری کیساتھ بھرتیوں کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو میں ضیاء النجار نے کہا کہ چاہتے ہیں کراچی سیف سٹی کم وقت میں بن جائے، سیف سٹی سکھر کیلئے بھی اس سال پیسے رکھے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء النجار کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس میں ایمانداری کے ساتھ بھرتیاں ہوئی ہیں، ہمارے پاس پولیس اہلکاروں کی تعداد ایک لاکھ 71 ہزار 41 ہے، 153.78 ارب روپے تنخواہوں کی مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے مزید کہا کہ کراچی میں 8 ہزار سے زائد منشیات فروش کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کراچی سیف سٹی کم وقت میں بن جائے، سیف سٹی سکھر کیلئے بھی اس سال پیسے رکھے ہیں، لاڑکانہ، حیدرآباد، میرپورخاص میں بھی سیف سٹی منصوبہ لائیں گے۔ ضیا لنجار نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر پابندی کیلئے ایکٹ لا رہے ہیں، اس قانون میں ای چالان متعارف کروایا جا رہا ہے، باڈی کیم پولیس انچارجز کو دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔