ٹرمپ کی ایک فون کال ایران اسرائیل جنگ روک سکتی ہے: ترجمان ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کے صدارتی ترجمان مجید فراہانی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ چاہیں تو صرف ایک فون کال کے ذریعے جنگ روک سکتے ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں ایران کے صدارتی ترجمان مجید فراہانی کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی قیادت کو ایران پر حملے روکنے کا حکم دیں تو ایران کے ساتھ سفارت کاری بہ آسانی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران سویلین مکالمے پر یقین رکھتا ہے، یہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ، اہم بات یہ ہے کہ بات چیت ہو، انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ صرف ایک فون کال کے ذریعے جنگ روک سکتے ہیں، بس اسرائیلیوں کو کال کردیں۔
انہوں نے ایران کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک اسرائیلی بمباری جاری ہے، مذاکرات ممکن نہیں، ایران یورینیم کی افزودگی روکنے کے مطالبے کی حمایت نہیں کرے گا، تاہم کچھ رعایتیں دی جا سکتی ہیں۔
ایرانی صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ اگر امریکا اس جنگ میں شامل ہوتا ہےتو ہمارے پاس بہت سے آپشنز ہیں، اور وہ تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔’
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں یورپی طاقتیں امریکا اور اسرائیل کے اُس مطالبے میں شامل ہو گئی ہیں جس میں ایران پر یورینیم کی افزودگی پر پابندی عائد کرنے کی بات کی گئی ہے، اور انہوں نے اس اہم مسئلے پر اپنا مؤقف مزید سخت کر لیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران کے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔