data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران کے صدارتی ترجمان مجید فراہانی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ چاہیں تو صرف ایک فون کال کے ذریعے جنگ روک سکتے ہیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں ایران کے صدارتی ترجمان مجید فراہانی کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی قیادت کو ایران پر حملے روکنے کا حکم دیں تو ایران کے ساتھ سفارت کاری بہ آسانی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران سویلین مکالمے پر یقین رکھتا ہے، یہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ، اہم بات یہ ہے کہ بات چیت ہو، انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ صرف ایک فون کال کے ذریعے جنگ روک سکتے ہیں، بس اسرائیلیوں کو کال کردیں۔

انہوں نے ایران کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک اسرائیلی بمباری جاری ہے، مذاکرات ممکن نہیں، ایران یورینیم کی افزودگی روکنے کے مطالبے کی حمایت نہیں کرے گا، تاہم کچھ رعایتیں دی جا سکتی ہیں۔

ایرانی صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ اگر امریکا اس جنگ میں شامل ہوتا ہےتو ہمارے پاس بہت سے آپشنز ہیں، اور وہ تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔’

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں یورپی طاقتیں امریکا اور اسرائیل کے اُس مطالبے میں شامل ہو گئی ہیں جس میں ایران پر یورینیم کی افزودگی پر پابندی عائد کرنے کی بات کی گئی ہے، اور انہوں نے اس اہم مسئلے پر اپنا مؤقف مزید سخت کر لیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران کے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی

تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔

ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔

حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم