Jasarat News:
2026-06-03@04:28:17 GMT

محرم الحرام کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

رویت ہلال ریسرچ کونسل کے مطابق محرم الحرام کا چاند بدھ 25 جون 2025 کو دوپہر 3 بج کر 32 منٹ پر پیدا ہوگا۔ چاند کی عمر غروب آفتاب کے وقت 27 گھنٹے سے زائد ہوگی، جس کی وجہ سے ملک بھر میں چاند نظر آنا آسان ہوگا۔

غروب شمس اور چاند کے غروب ہونے کے درمیان فرق، جو کم از کم 40 منٹ ہونا ضروری ہے، کراچی میں 74 منٹ، جیوانی میں 75 منٹ، جبکہ لاہور اور کوئٹہ میں 76 منٹ ہوگا، جو چاند کی رویت کے امکانات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مولانا عبد الخبیر آزاد کی زیر صدارت کوئٹہ میں منعقد ہوگا، جبکہ لاہور سمیت دیگر شہروں میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس ہوں گے۔

رویت ہلال ریسرچ کونسل کے مطابق پاکستان میں نیا ہجری سال جمعتہ المبارک، 27 جون سے شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ یوم عاشورہ، 10 محرم الحرام، 6 جولائی بروز اتوار کو ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان