گجرات میں گھر کی دیوار گرنے سے 3 بچے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
پنجاب کے شہر گجرات ماڈل ٹاؤن میں گھر کی دیوار گرنے سے 3 بچے جاں بحق اور 3 شدید زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق گجرات گندرہ موڑ پر محنت کشوں پر قیامت ٹوٹ پڑی، جہاں رہائشی بچے گھر کے دروازے کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ اچانک دروازہ دیوار سمیت زمین پر آگرا، جس کے نتیجے میں 6 سالہ بچی رانی، 8 سالہ کامران اور 7 سالہ ساجد دیوار کے ملبے تلے دب کر جاں بحق جبکہ 8 سالہ دلاور، 7 سالہ سعید اور 7 سالہ عارف خان شدید زخمی ہو گئے۔
واقعہ کی اطلاع پر ریسکیو1122 اور پولیس چوکی ماڈل ٹاؤن کی نفری نے موقع پر پہنچ کر لاشوں اور زخمی بچوں کو ملبے سے نکال کر تشویشناک حالت میں عزیز بھٹی اسپتال منتقل کر دیا۔
ضروری کارروائی کے بعد جاں بحق بچوں کی لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں جبکہ زخمی بچوں کا علاج معالجہ جاری ہے۔
افسوسناک واقعے پر پورا علاقہ سوگ میں ڈوب گیا، متاثرہ خاندان بہاولپور کے رہائشی ہیں جو گجرات میں محنت مزدوری کی غرض سے رہائش پذیر ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔