لاہور، معمولی تلخ کلامی پر 12 سالہ لڑکے پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبائی دارالحکومت لاہور میں معمولی تلخ کلامی پر 12سالہ لڑکے پر پٹرول چھڑ ک کر آگ لگا دی،لڑکے کواسپتال منتقل کر دیاگیا جہاں اس کا علاج جاری ہے،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار اور پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی۔تفصیلات کے مطابق افسوسناک اور انسانیت سوزواقعہ لاہور کے علاقے پرانی انار کلی میں پیش آیا جہاں 12 سالہ لڑکے
اویس کو مبینہ طور پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔پولیس کے مطابق واقعہ معمولی تلخ کلامی کے بعد پیش آیاجس میں دو نوجوانوں نے اویس کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس پر پٹرول ڈال کر آگ لگا دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اویس اپنے بھائی کی جیولری شاپ پر موجود تھا جب یہ افسوسناک واقعہ پیش آیاجس کے بعداویس کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پراسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ زیر علاج ہے۔پولیس نے زخمی اویس کے بھائی رجب کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کر آگ لگا دی پر پٹرول
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔