لاہور میں ہنی ٹریپ کا ایک اور واقعہ، پولیس اہلکار بھی ملوث نکلا
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
لاہور:
لاہورکے علاقے شاہدری ٹاؤن میں دودھ فروش کے ساتھ ہنی ٹریپ کا واقعہ پیش آیا جس میں پولیس اہلکار بھی ملوث نکلا ہے۔
پولیس کے مطابق نامعلوم خاتون نے دودھ فروش کو اپنے گھر دودھ پہنچانے کا کہا اور ساتھ گھر لے گئی، جس کے بعد اُسے کمرے میں بند کر کے ساتھیوں کے ساتھ ملکر تشدد کا نشانہ بنایا۔
ملزمان نے دودھ فروش سے ایک لاکھ 8 ہزار روپے لوٹ لیے اور پھر اُسے چھوڑ دیا۔ اس واردات میں پولیس اہلکار بھی ملوث تھا جسے شناخت کے بعد گرفتار کرلیا گیاہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار اہلکار کی شناخت منظر کے نام سے ہوئی جو تھانہ شاہدری ٹاؤن میں نائب ہیڈ محرر ہے، ملزم کی نشاندہی پر اُس کے ساتھی ندیم کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان سے تفتیش شروع کردی ہے جبکہ دودھ فروش کو ٹریپ کرنے والی خاتون کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔