ایران؛ بوشہر میں موساد کے مشتبہ 9 جاسوس گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
TEHRAN:
ایران نے جنوب مغربی صوبے بوشہر میں اسرائیل خفیہ ایجنسی موساد کے مشتبہ 9 جاسوس گرفتار کر لیا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ بوشہر میں 9 افراد کو مبینہ طور پر موساد سے رابطوں اورعوامی سطح پر کشیدگی پھیلانے کے لیے مختلف سرگرمیوں میں شامل ہونے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔
بوشہر کے سیکیورٹی چیف حیدر سوسانی نے موساد کے مبینہ 9 جاسوس گرفتار کرنے کی تصدیق کردی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے بعد ملزمان امن و امان خراب کرنے اور معاشرے میں افراتفری پھیلانے کے لیے اسرائیل کی مدد کرنے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔
ایران میں 13 جون کو اسرائیل کے حملوں کے بعد کئی ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے رابطے میں تھے اور ان کے لیے کام کر رہے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔