اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون 2025ء ) پاکستان کا ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ حملوں سے خطے میں خطرناک حد تک کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے خطے اور دنیا پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، ان حملوں کو اسرائیل کے پے در پے حملوں کا تسلسل سمجھتے ہیں، ہمیں خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے پر گہری تشویش ہے۔

اس حوالے سے اپنے بیان میں ترجمان نے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مذاکرات اور سفارتکاری ہی مسائل کا واحد حل ہیں، فریقین بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں، ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنی خودمختاری اور سلامتی کا دفاع کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

(جاری ہے)

ادھر او آئی سی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران پر اسرائیلی حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کے جائز حقِ دفاع کی مکمل حمایت کرتا ہے، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے کی گئی بلااشتعال اور کھلی جارحیت کے تناظر میں۔

نائب وزیراعظم نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایران پر حملے اُس وقت کیے جب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) ایران میں اپنی نگرانی اور تصدیقی سرگرمیاں انجام دے رہی تھی اور ان حملوں کے ذریعے اسرائیل نے بین الاقوامی قانون، آئی اے ای اے کے آئین اور متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی کی، حملے ایک خطرناک نظیر قائم کرنے کا خدشہ رکھتے ہیں اور پورے خطے بلکہ دنیا بھر کی آبادیوں کے لیے شدید خطرہ ہیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الاقوامی کہا کہ

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار