اسرائیلی حملوں پر مودی حکومت کی خاموشی ہماری اخلاقی اور سفارتی روایات کے منافی ہے، سونیا گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
سونیا گاندھی نے کہا کہ 13 جون 2025ء کو دنیا نے ایک بار پھر یکطرفہ فوجی طاقت کے استعمال کے خطرناک نتائج کا مشاہدہ کیا جب اسرائیل نے ایران اور اسکی خودمختاری کے خلاف شدید پریشان کن اور غیر قانونی حملہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کی سینیئر خاتون لیڈر سونیا گاندھی نے غزہ اور ایران پر اسرائیل کے حملے پر ہندوستان کی خاموشی پر سخت تنقید کی۔ ایک مضمون میں کانگریس کی سابق صدر نے نریندر مودی کی حکومت پر اسرائیل ایران جنگ کے حوالے سے پُرامن دو ملکی حل کے لئے ہندوستان کے اصولی عزم کو ترک کرنے کا الزام لگایا۔ سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو پر بھی تنقید کی۔ کانگریس کی لیڈر نے اپنے مضمون میں کہا کہ غزہ میں ہونے والی تباہی پر بھارت کی خاموشی اور اب ایران کے خلاف بلا اشتعال بڑھتی ہوئی کشیدگی ہماری اخلاقی اور سفارتی روایات کو ترک کرنے کے مترادف ہے۔ سونیا گاندھی نے اسے اقدار کی سرنڈر بھی قرار دیا۔ سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے، بھارت کو اس معاملے پر اپنا موقف واضح رکھنا چاہیئے۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے لئے مذاکرات اور سفارتی راستہ استعمال کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس انسانی آفت کے پیش نظر نریندر مودی حکومت نے ایک پُرامن دو ریاستی حل کے لئے ہندوستان کی دیرینہ اور اصولی وابستگی کو عملی طور پر ترک کر دیا ہے جس میں ایک خودمختار، آزاد فلسطین کا تصور کیا گیا ہے جو اسرائیل کے ساتھ باہمی سلامتی اور احترام کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ 13 جون 2025ء کو دنیا نے ایک بار پھر یکطرفہ فوجی طاقت کے استعمال کے خطرناک نتائج کا مشاہدہ کیا جب اسرائیل نے ایران اور اس کی خودمختاری کے خلاف شدید پریشان کن اور غیر قانونی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ایرانی سرزمین پر ان بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتی ہے۔ یہ ایک خطرناک اضافہ ہے جس کے سنگین علاقائی اور عالمی نتائج ہوں گے۔ اسرائیل کے بہت سے حالیہ اقدامات کی طرح، جس میں غزہ میں اس کی وحشیانہ اور غیر متناسب مہم بھی شامل ہے، یہ آپریشن شہریوں کی زندگیوں اور علاقائی استحکام کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ حملے عدم استحکام میں مزید اضافہ کریں گے اور جنگ کے لئے بیج تیار کریں گے۔
سونیا گاندھی نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو کی قیادت میں موجودہ اسرائیلی قیادت کا امن کو نقصان پہنچانے اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کا ایک طویل اور بدقسمتی کا ریکارڈ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ حیران کن نہیں ہے کہ نتن یاہو نے بات چیت کے بجائے کشیدگی کو فروغ دینے کا انتخاب کیا ہے۔ امریکی صدر کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا 17 جون کا بیان جس میں انہوں نے اپنے ہی انٹیلی جنس چیف کے جائزے کو مسترد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے "بہت قریب" ہے انتہائی مایوس کن تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو حقائق پر مبنی ہو اور سفارت کاری سے چلتی ہو نہ کہ طاقت یا جھوٹ سے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران ہندوستان کا پرانا دوست ہے اور دونوں کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سونیا گاندھی نے انہوں نے کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔