ٹرمپ ایک ایسے پارٹنر کی تلاش میں تھے جو خطے کے قریب ہو اور مضبوط انٹیلی جنس صلاحیتوں کا حامل ہو۔ ان کے نزدیک پاکستان اس تعریف پر پورا اترتا ہے۔ وہ ایران کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، سب سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے خیالات میں کچھ ہم آہنگی کا اشارہ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ (عاصم منیر) مجھ سے متفق تھے۔ وہ خوش نہیں ہیں (ایران میں ہونے والے واقعات سے متعلق) ایسا نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ہیں۔ اس ملاقات میں کیا شامل تھا؟ ایران کی جوہری خواہشات، اسرائیلی حملے، یا وسیع تر علاقائی افراتفری؟ ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے۔ شاید جان بوجھ کر ابہام برقرار رکھا گیا۔ شاید یہ ابہام پاکستان کے لیے ڈھال کا کام کرسکتا ہے۔ تحریر: سید باقر سجاد

18 جون وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی دن تھا۔ اس سے پہلے کبھی کسی امریکی صدر نے پاکستان کے حاضر چیف آف آرمی اسٹاف کی خصوصی، اعلیٰ سطح پر میزبانی نہیں کی۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر مشتمل فوجی تعاون کے باوجود اس نوعیت کی کسی ملاقات کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ ملاقات خاص طور پر اس لیے بھی دلچسپ تھی کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیبنٹ روم میں ظہرانے کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے نجی طور پر ملاقات اس وقت کی کہ جب اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خطے کی ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرات میں اضافہ ہورہا ہے۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ اس ملاقات میں پاکستان کے کسی سویلین نمائندے نے شرکت نہیں کی۔ نہ سفیر، نہ وزیر خارجہ، صرف آرمی چیف اور پاکستان کے اعلیٰ انٹیلی جنس افسر لیفٹیننٹ عاصم ملک جو قومی سلامتی کے مشیر ہیں، ظہرانے میں موجود تھے۔ امریکا کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ، سیکریٹری آف اسٹیٹ سینیٹر مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے امور کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے شرکت کی۔ ملاقات میں موجود لوگوں کے مختصر، محتاط انداز میں منتخب کردہ گروپ نے ظاہر کیا کہ دونوں فریقین کے خیال میں یہ ملاقات کتنی اہم اور سنجیدہ تھی۔

اگرچہ یہ ملاقات دلچسپ اور معنی خیز تھی، اس میں کوئی حتمی فیصلہ یا معاہدہ نہیں کیا گیا بلکہ اس میں خیالات کا تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دونوں فریقین کے درمیان کھلے پن اور تعاون کی غیرمعمولی سطح کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، اگرچہ ملاقات ایک گھنٹے کے لیے طے تھی لیکن یہ 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی جو اس مکالمے کی گہرائی اور دوستانہ ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ملاقات میں متعدد مسائل پر بات چیت کی گئی جن میں بھارت کے ساتھ پاکستان کا حالیہ تعطل، کرپٹو کرنسی میں اسلام آباد کی دلچسپی، نایاب معدنیات کی پیشکش اور مصنوعی ذہانت پر تعاون کے امکانات شامل ہیں۔

لیکن آئی ایس پی آر نے نوٹ کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا‘، مزید کہا کہ دونوں فریقین نے ’تنازعے کے حل کی اہمیت پر زور دیا۔ ٹرمپ نے خود اس خیال سے اتفاق کیا کہ پاکستان اس معاملے میں معنی خیز حصہ ڈال سکتا ہے خاص طور پر جب بات ایران کو سمجھنے کی ہو۔ تاہم دونوں اطراف کے ذرائع کے مطابق یہ ملاقات وعدے کرنے کے حوالے سے کم بلکہ مؤقف کو جاننے کے حوالے سے زیادہ تھی تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ فریقین کہاں کھڑے ہیں۔

ایران کی حمایت؟
ملاقات کے اگلے دن دفتر خارجہ نے ایران-اسرائیل جنگ کے بارے میں اپنے سرکاری مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے مزید وضاحت پیش کی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا، ’اسرائیل، ایران میں جو کچھ کر رہا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ مہذب رویے، بین الریاستی تعلقات، بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’ایران کے لیے حمایت ہمارا بنیادی مؤقف ہے۔ یہ واضح اور پختہ ہے۔ کوئی پاکستانی شہری یا حکومت کبھی بھی اسرائیل کی حمایت نہیں کرسکتی۔

پھر بھی جب اس بات پر دباؤ ڈالا گیا کہ آیا پاکستان ایران کی فوجی مدد کر سکتا ہے یا نہیں تو شفقت علی خان نے ہچکچاتے ہوئے کہا کہ اس مقام پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔۔۔ ہمیں ایران سے فوجی مدد کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ سادہ الفاظ میں پاکستان صرف ایران کی عسکری مدد کرنے سے انکار نہیں کر رہا ہے بلکہ وہ اپنی پوزیشن کو احتیاط سے متوازی رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ملک ایران کے ساتھ اقدار کا اشتراک کرتا ہے، سفارت کاری کے ذریعے تناؤ کو کم کرنا چاہتا ہے اور جب فوجی کارروائی کی بات آتی ہے تو وہ غیرجانبدار رہتا ہے۔ پاکستان اس وقت انتہائی نازک صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان کا محتاط متوازی ردعمل، تنازعات کے ساتھ اس کی اپنی تاریخ سے جڑا ہے خاص طور پر بھارت کے ساتھ اس کے مشکل اور کشیدہ تعلقات اور ان کے درمیان جوہری جنگ کا مستقل خطرہ اس کی وجہ ہے۔ ابھی پچھلے مہینے ہی پہلگام میں ایک حملے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک تقریباً مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی، ’آئی اے ای اے کے تحفظات کے تحت جوہری تنصیبات پر حملہ کرنا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

یہ جملہ پاکستان کی سب سے بڑی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے کہ اگر ایک ملک بغیر کسی سزا کے دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرسکتا ہے، تو دنیا کو محفوظ رکھنے والے قوانین کی پامالی ہوگی جوکہ پاکستان کے لیے بہت خوفناک ہے کیونکہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور اس کی بھارت کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں جس کے پاس بھی جوہری ہتھیار ہیں۔ جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں آئی ایس پی آر نے واضح کیا، پاک-امریکا تعلقات نے گزشتہ تین دنوں میں وہ حاصل کیا ہے جو بھارت تین دہائیوں میں حاصل نہیں کر سکا‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج اس ملاقات کو سیکیورٹی معاملات پر پاکستان کی مرکزی آواز کے طور پر اپنے اہم کردار کے ثبوت کے طور پر دیکھتی ہے۔

آئی ایس پی آر نے مزید زور دے کر کہا کہ ملاقات نے امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیا، پاکستان کو اب اسٹریٹجک ترجیح دی جا رہی ہے۔ لیکن کیبنٹ روم کا منظر جہاں ٹرمپ پاکستانی جرنیلوں کے سامنے بیٹھے جبکہ پاکستان کی سیاسی قیادت کی غیرموجودگی کئی تناظر میں پریشان کن تھی۔ ’کوئی بھی غیرملکی حکومت جو جمہوریت سے اتحاد یا حمایت مانگتی ہے وہ عام طور پر سویلین قیادت کے ساتھ معاملہ طے کرتی ہے۔ سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ لیکن پاکستان اب ایک بالکل مختلف پیغام دے رہا ہے!

پاکستان کی توازن قائم کرنے کی کوشش
اس ملاقات نے نئی دہلی میں بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ تجزیہ کاروں نے اسے امریکا اور بھارت تعلقات کے لیے ایک دھچکا قرار دیا وزیر اعظم نریندر مودی نے خاموشی سے وائٹ ہاؤس کی طرف سے اسی طرح کی وائٹ ہاؤس کی دعوت کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ ان کا شیڈول طے ہے۔ اس سے ان قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات اس وقت تناؤ کا شکار ہوسکتے ہیں کہ جب عالمی اتحاد بدل رہے ہیں۔ ٹرمپ کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ لنچ ایک زبردست اقدام تھا۔ جیسا کہ اسرائیل نے امریکا کو ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور امریکی فوجیوں نے خاموشی سے خلیج میں اپنی پوزیشنیں تبدیل کر دیں۔

ٹرمپ ایک ایسے پارٹنر کی تلاش میں تھے جو خطے کے قریب ہو اور مضبوط انٹیلی جنس صلاحیتوں کا حامل ہو۔ ان کے نزدیک پاکستان اس تعریف پر پورا اترتا ہے۔ وہ ایران کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، سب سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے خیالات میں کچھ ہم آہنگی کا اشارہ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ (عاصم منیر) مجھ سے متفق تھے۔ وہ خوش نہیں ہیں (ایران میں ہونے والے واقعات سے متعلق) ایسا نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ہیں۔ اس ملاقات میں کیا شامل تھا؟ ایران کی جوہری خواہشات، اسرائیلی حملے، یا وسیع تر علاقائی افراتفری؟ ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے۔ شاید جان بوجھ کر ابہام برقرار رکھا گیا۔ شاید یہ ابہام پاکستان کے لیے ڈھال کا کام کرسکتا ہے۔

کسی فوجی مدد کا وعدہ نہ کرتے ہوئے ایران کی اخلاقی حمایت کر کے پاکستان اپنے آپشن کھلے رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ ایران کے اعتماد کو کھونے کے ساتھ ساتھ امریکا کو پریشان کرنے سے بھی بچنا چاہتا ہے۔ ایران پر تنقید کرنے والے آئی اے ای اے کے حالیہ ووٹ سے باہر رہنے کا اس کا انتخاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کتنی احتیاط سے دونوں فریقین میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ایک سچائی باقی ہے۔ اسلام آباد کی ایئر یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر عادل سلطان نے کہا، کوئی ظہرانہ مفت نہیں ہوتا۔ خاص طور پر وہ جو وائٹ ہاؤس میں ہو۔ ہمیں ایک بار پھر فرنٹ لائن ریاست بننے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

بشکریہ: ڈان اردو ڈات کام

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کی جوہری اس ملاقات میں پاکستان اس پاکستان کے پاکستان کی کی کوشش کر کے درمیان جانتے ہیں یہ ملاقات وائٹ ہاؤس کرتے ہوئے کر رہا ہے ایران کے بھارت کے مزید کہا کے ساتھ نہیں ہے کہا کہ ایس پی کے لیے بات پر

پڑھیں:

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت ختم ہو چکی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ انہیں رہا کر دیا جائے تاکہ یہ حقیقت سب کے سامنے آ جائے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کل نہیں بلکہ آج ہی رہا ہو جائیں تاکہ ان کی مقبولیت اور سیاسی حیثیت کے بارے میں تمام قیاس آرائیاں ختم ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے پہلی دفعہ 10 روپے عیدی ملی تھی، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر غیر ضروری طور پر ایک تاثر پیدا کیا جا رہا ہے اس لیے انہیں باہر آنا چاہیے تاکہ سب کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے اور یہ بحث بھی ختم ہو جائے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان جب چاہیں رہا ہو سکتے ہیں وہ حقائق کے برعکس بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان خود رہائی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی جیل کاٹ چکے ہیں اور ان کے تجربے کے مطابق جب کسی قیدی کو قانونی طور پر رہائی کا موقع ملتا ہے تو وہ فوری طور پر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ عمران خان کو اس وقت رہائی کا کوئی موقع میسر نہیں آ رہا۔ عمران خان جیل میں نسبتاً بہتر سہولیات کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں جہاں ان کے لیے متعدد بیرکس مختص ہیں جن میں ورزش اور چہل قدمی کی سہولت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی ہے، لیکن اب ہمیں معاشی جنگ جیتنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

عمران نذیر نے کہاکہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا نام پاکستان ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے بھی وفاق کے پاس تھے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ صوبوں میں یہ محکمے موجود نہیں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب سے ہمیشہ قربانی مانگی جاتی ہے، ہمارا این ایف سی شیئر 58 فیصد بنتا ہے، لیکن ہمیں 51 فیصد ملا۔

انہوں نے کہاکہ دیگر صوبے آبادی کم کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں تاکہ این ایف سی شیئر بڑھ جائے، لیکن اگر آبادی رکے گی نہیں تو اس کا نقصان پاکستان کو ہونا ہے۔

وزیر صحت پنجاب نے کہاکہ بحیثیت سیاسی کارکن مجھے عمران خان سمیت ہر سیاسی کارکن کی قید کا دکھ ہے، لیکن سیاسی کارکنوں کو بھی ریڈلائن کراس نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان صرف سیاسی قیدی ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کیس اور فارن فنڈنگ کیس ایک حقیقت ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو جیل میں سہولیات میسر ہیں، لیکن کبھی نواز شریف، شہباز شریف یا کسی اور نے یہ نہیں کہاکہ عمران خان میں تمہارا اے سی اتاروں گا۔ لیڈر آتے جاتے رہتے ہیں، پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔

مزید پڑھیے: عیدالاضحیٰ پر کامیاب صفائی آپریشن: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے خراجِ تحسین کی قرارداد

خواجہ عمران نذیر نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2006 میں ان کی ملاقات امریکا کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ہوئی تھی اور اس وقت امریکا پاکستان کے شمالی علاقوں میں غریب افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک پروگرام شروع کر رہا تھا۔

وزیر صحت نے بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران کونڈولیزا رائس سے کہا کہ پاکستان میں منصوبے شروع کرنے کے بجائے امریکا کو پہلے اپنے ملک میں غربت اور بے گھری کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ وہاں بھی بڑی تعداد میں ضرورت مند افراد موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس تبصرے پر کونڈولیزا رائس نے ناراضی کا اظہار کیا اور ان کی شکایت امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) سے کر دی جس کے بعد انہیں تقریباً 2،3 سال مختلف سرکاری تقریبات اور پروگراموں میں مدعو نہیں کیا گیا۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بعض اوقات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر حقائق کے برعکس خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال میں ایک ڈاکٹر سے متعلق سامنے آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں تاہم الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق متعلقہ ڈاکٹر نے مریض کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی اور طبی معائنے کے دوران تمام مقررہ طبی ضابطوں اور پروٹوکولز پر عمل کیا گیا تھا۔    مریض کی بیماری اور علامات کے مطابق ہی اس کا معائنہ اور علاج کیا جاتا ہے اس لیے ایسے معاملات کو بلاجواز غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔

مزید پڑھیں: ستھرا پنجاب اور سیف سٹی کا کامیاب آپریشن، ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد ویسٹ کلیکشن

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ محکمہ صحت میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق ان سے بھی بہتر کام کر رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی توجہ کے باعث صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کے منصب سنبھالنے سے قبل تقریباً 16 ہزار بچوں کی دل کی سرجریاں التوا کا شکار تھیں تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 2 سے 3 ہزار رہ گئی ہے۔

ان کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 14 ہزار بچوں کی کامیاب دل کی سرجریاں کی جا چکی ہیں جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ مریم نواز کو جاتا ہے۔ اب پنجاب کے مختلف اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں دل کے امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اسٹنٹ ڈالنے کی سہولت بھی ہر ضلع تک توسیع دی جا رہی ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صوبے بھر کے اسپتالوں میں جدید طبی سہولیات، بشمول ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں، فراہم کی جا چکی ہیں جس سے عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں واضح بہتری آئی ہے تاہم تنقید کرنا بعض لوگوں کا کام ہے اور وہ اپنی رائے دیتے رہیں گے۔

خواجہ عمران نذیر نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2014 میں صحت کارڈ پروگرام شروع کیا تھا تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کا کامیاب آپریشن، عید کے روز بھی سرکاری امور کی نگرانی جاری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیر اطلاعات شفیع جان کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ صحت کارڈ کا آغاز سنہ 2014 میں تحریک انصاف نے کیا تھا۔ ان کے بقول صحت کارڈ پروگرام کی بنیاد سابق وزیراعظم نواز شریف نے رکھی تھی اور اسی دور میں اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے جبکہ اس منصوبے کا اصل کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جاتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ کلینک آن ویلز منصوبے کے ذریعے اب تک تقریباً ڈھائی کروڑ مریضوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان کے بقول حکومت صحت کے شعبے میں مسلسل کام کر رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بعض حلقے بلاجواز تنقید اور الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوامی خدمت کے باوجود کبھی کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی منصوبوں پر بے بنیاد اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں جس سے انہیں اور ان کی ٹیم کو دکھ پہنچتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالتوں یا اداروں سے رجوع کرے تاہم بغیر ثبوت الزامات اور بہتان تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے سے قبل چند قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی تھی جن میں سینیٹر پرویز رشید اور وہ خود بھی شامل تھے۔ ان کے بقول اس وقت وہ مسلم لیگ (ن) لاہور کے سیکریٹری جنرل کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے اور انہوں نے مریم نواز کو سیاسی طور پر زیادہ متحرک کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعلیٰ پنجاب سے کھل کر بات کرنے کی آزادی حاصل ہے اور شاید کابینہ میں کسی اور وزیر کو اتنی گنجائش میسر نہیں جتنی انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بعض اوقات سخت اور دوٹوک انداز میں بھی اپنی رائے پیش کرتے ہیں تاہم مریم نواز ان کی بات تحمل سے سنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ کے پاس کسی بھی وزیر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار موجود ہے لیکن مریم نواز تنقید اور مختلف آرا سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کے بقول مریم نواز انتظامی معاملات میں سخت مزاج بھی ہیں تاہم اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور شفقت سے پیش آتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کو ہتک عزت بل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ مریم نواز خود کو ’عقلِ کل‘ نہیں سمجھتیں بلکہ مشاورت اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی دانست میں بہترین فیصلے کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صحت کارڈ صحت کارڈ منصوبہ عمران خان عمران خان کی مقبولیت نواز شریف وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی