حکومت ٹرمپ کیلئے نوبل انعام کی سفارش واپس لے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ری میں جمعیت علامئے اسلام پنجاب کی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نہ ماضی کی اسٹیبلشمنٹ نے مدارس کو قبول کیا نہ ہی موجودہ اسٹیبلشمنٹ نے، مدارس کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزدگی کی سفارش واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکا سے دوستی چاہتے ہیں لیکن غلامی نہیں چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے پھگواڑی مری میں جمعیت علامئے اسلام پنجاب کی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نہ ماضی کی اسٹیبلشمنٹ نے مدارس کو قبول کیا نہ ہی موجودہ اسٹیبلشمنٹ نے، مدارس کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر پر جب تک علمائے کرام کی حکومت تھی کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا جب سے خطہ غیر علما کے ہاتھ آیا مسلسل خون بہہ رہا ہے، تعلیمی دنیا میں دینی اور دنیاوی کی تقسیم انگریز کی ایجاد ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ٹرمپ کے لیے نوبل انعام کی سفارش واپس لے، ٹرمپ کے ہاتھ سے فلسطینیوں، عراقیوں اور افغانوں کا خون رس رہا ہے اور ایران پر حملہ کرکے ٹرمپ نے قومی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کی تائید نہ کریں تو کیا اسرائیل کی حمایت کریں، ہم ایران کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں، ملک میں فرقہ واریت علما اور مدارس کی نہیں اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہے، ریاست اور سیاست کے درمیان تعلق کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام سب سے بڑی عوامی قوت ہے اس کا راستہ روکنا عوام کا راستہ روکنے مترادف ہے، ملک میں نکاح کے بجائے زنا بالرضا کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے، ملک میں غیر شرعی اور خلاف آئین قانون سازی کی جارہی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ فرقہ پرست عناصر کی سرپرستی کرکے فرقہ وارانہ فساد کی راہ ہموار کرتی ہے، ہم امریکا کے ساتھ دوستی کے حامی ہیں لیکن غلامی کے حامی نہیں ہیں، امریکا کے ساتھ تعلقات میں قومی خودمختاری، عوام کے حق حکمرانی اور معاشی آزادی کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں امریکی وفد تین بار میرے پاس آیا جس کے بعد میں نے ان کی سفارتی تقریب میں شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان اسٹیبلشمنٹ نے نے کہا کہ
پڑھیں:
صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
نیویارک: امریکا سے اسپین جانے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی ایک پرواز کو دورانِ سفر اس وقت واپس موڑ دیا گیا جب ایک بلوٹوتھ ڈیوائس کے مشکوک نام نے سیکیورٹی الرٹ پیدا کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 236 ہفتے کے روز نیوآرک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے شہر پالما ڈی مایورکا کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ بوئنگ 767 طیارے میں تقریباً 190 مسافر اور 12 عملے کے ارکان سوار تھے۔
پرواز کو روانہ ہوئے تقریباً تین گھنٹے گزر چکے تھے کہ اچانک سیکیورٹی خدشات کے باعث پائلٹ نے طیارے کا رخ واپس نیوآرک کی جانب موڑ دیا۔ اطلاعات کے مطابق پرواز کے دوران مسافروں کو اپنے بلوٹوتھ آلات بند کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم ایک ڈیوائس مسلسل سسٹم میں Bomb کے نام سے ظاہر ہو رہی تھی۔
عملے کی جانب سے متعدد اعلانات کے باوجود متعلقہ ڈیوائس کی شناخت نہ ہونے پر سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے، جس کے بعد ایئرلائن اور پائلٹ نے احتیاطی تدابیر کے تحت طیارے کو واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔
طیارے کی بحفاظت لینڈنگ کے بعد تمام مسافروں کو اتار لیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جہاز کی مکمل تلاشی لی۔ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA)، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) اور دیگر اداروں نے بھی اضافی جانچ پڑتال کی۔
بعد ازاں تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مشکوک ڈیوائس دراصل ایک 16 سالہ مسافر کی فٹ بِٹ (Fitbit) اسمارٹ ڈیوائس تھی، جس کا نام Bomb رکھا گیا تھا۔ اسی نام کی وجہ سے سیکیورٹی نظام میں غلط فہمی پیدا ہوئی اور پرواز کو واپس موڑنا پڑا۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر طیارے کو واپس لایا گیا تھا۔ تمام جانچ مکمل ہونے کے بعد مسافروں کو متبادل پرواز کے ذریعے اسپین روانہ کیا گیا، جو اگلے روز اپنی منزل پر پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) بھی واقعے کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اب تک کسی شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ یا الزام عائد نہیں کیا گیا۔