Express News:
2026-07-24@06:27:41 GMT

’’ماں‘‘

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

چند دن پہلے‘عبدالستار عاصم صاحب نے کمال مہربانی کی ۔ طالب علم کے گھر تشریف لائے اور حسب روایت چند کتابیں عطا فرمائیں۔ شام کو جب‘ ایک کتاب پر نظر پڑی تو چونک گیا۔ عنوان تھا۔ ’’ماں‘‘۔ مطالعہ شروع کیا۔ تو وقت تھم گیا۔ کتاب کب پڑھنی شروع کی کب ختم ہوئی، پتہ ہی نہیں چلا۔ ’’ماں‘‘ کے ذکر پر ‘ کون ہے جو آبدیدہ نہیں ہوتا۔ زندگی کا سب سے بے لوث رشتہ ۔آنکھوں کے سامنے‘ اپنی والدہ کا نقشہ سامنے آ گیا۔

علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم ایس سی باٹنی (Botany) ۔ پھر ‘ ایک اجنبی ملک کی طرف ہجرت اس کے بعد‘ دیار غیر میں ‘ بغیر کسی سہارے کے شعبہ تعلیم سے منسلک ہونا‘ اور آخری سانس تک تدریس کے مقدس کام میں مصروف رہنا۔ سب کچھ‘ پردہ غیب سے ذہن پر ظہورپذیر ہونے لگا۔ اس ذاتی موضوع پر کسی اور وقت قلم اٹھاؤں گا۔ آج تو صرف کتاب میں سے چند اقتباسات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

نبی کریم ﷺ نے اپنی ماں کو کبھی نہیں بھلایا۔ وہ اکثرحضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قبر پر جایا کرتے تھے اور وہاں کھڑے ہو کر آنکھیں اشکبار کر لیتے تھے۔ ایک مرتبہ صحابہ کرام نے دیکھا کہ نبی کریمﷺ اپنی ماں کی قبر پر اس قدر روئے کہ ان کے ساتھ صحابہ بھی رونے لگے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ وہ اپنی ماں سے محبت کرتے ہیں۔ یہ جملہ ماں کے رشتے کی عظمت اور گہرائی کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔

حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ماں کی حیثیت سے سب سے نمایاں خصوصیت ان کی غیر متزلزل ایمان داری تھی۔ ایک عام عورت بھی ماں بن کر اپنی اولاد کے لیے بہت سی قربانیاں دیتی ہے‘ لیکن حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مقام ان تمام ماؤں سے بلند تر تھا کیونکہ ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کا نبی تھا‘ جس کے ذریعے بنی اسرائیل کو ہدایت دی گئی۔

حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تربیت اس انداز میں کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے سچے نمایندے بنے۔ ان کی تعلیمات میں محبت‘ رحمت اور خدا پرستی کا عکس صاف نظر آتا ہے اور یہ سب کچھ حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ابتدائی تربیت کا ہی نتیجہ تھا۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی زندگی میں بچوں کی تربیت کو ہمیشہ اولین ترجیح دی۔ باوجود اس کے کہ وہ ایک مصروف تاجرہ تھیں‘ اور بعد ازاں رسول اللہ ﷺ کی شریک حیات کے طور پر نبوت کے ابتدائی دور کی تمام مشکلات کا سامنا بھی کر رہی تھیں‘ انھوںنے کبھی اپنی ماں ہونے کی ذمے داری کو نظر انداز نہیں کیا۔ ان کے ہاں بچوں کے ساتھ محبت‘ شفقت‘ سلیقہ مندی اور حکمت عملی کے ساتھ تربیت ایک مستقل عمل تھا۔ انھوں نے اپنے بچوں کو وقت دیا‘ ان سے بات کی‘ ان کے احساسات کو سمجھا اور ان کی روحانی اور اخلاقی نشو ونما کا خیال رکھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کی ماں:اس عظیم عورت کا نام ست النفر تھا۔ست النفر نے بیٹے کو صرف جنگی تربیت ہی نہیں دی بلکہ ایک ولی مزاج مجاہد بنایا۔ وہ راتوں کو تہجد پڑھ کر بیٹے کے لیے دعائیں کرتیں‘ اور دن کے وقت اسے عدل ‘ صبر‘ قناعت اور رعایا کی خدمت کا درس دیتیں۔ وہ کہا کرتی تھیں:’’بیٹا! تمہیں اللہ تعالیٰ نے طاقت دی ہے تو اس کا استعمال صرف مظلوموں کی حفاظت اور حق کے قیام کے لیے کرنا‘‘۔یہی سبق بعد میں صلاح الدین ایوبی کی زندگی کا نصب العین بنا۔

شیر میسور ٹیپو سلطان کی والدہ:فاطمہ بیگم نے اپنے بیٹے کی تربیت صرف ایک شہزادے کے طور پر نہیں کی‘ بلک ایک مجاہد‘ عابد‘ اور صالح انسان کی طرح کی۔ انھوں نے ٹیپو کو قرآن مجید کی تعلیم ‘ اسلامی تاریخ‘ سیر ت النبی ﷺ ‘ اور حکمرانی کے اصولوں سے آراستہ کیا۔ وہ اکثر ٹیپو سے کہا کرتی تھیں:’’فتح کی اصل طاقت تلوار نہیں ‘ نیت میں ہوتی ہے‘‘۔ان کی صحبت میں ٹیپو سلطان نے قناعت ‘ عدل‘ سخاوت‘ اور حیا جیسے اعلیٰ اوصاف سیکھے۔

عرض کروں گاکہ ماں کا وجود اور کردار‘ کسی مذہب‘ سماج یا ملک تک محدود نہیں ۔ ہر کامیاب انسان میں کسی نہ کسی طرح‘ اس کی والدہ کی جھلک ضرور نظر آتی ہے۔

سوفی ماریکوری۔ ماریہ کوری کی ماں:سوفی نے اپنی بیٹی کو تعلیم سے محبت‘ محنت کی عظمت ‘ اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کا سبق دیا۔ یہی اقدار ماریہ کیوری کی پوری زندگی میں جھلکتی رہیں۔ نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہونے کے باوجود ماریہ سادگی سے رہتیں‘ بغیر کسی ذاتی فائدے کے تحقیق کرتیں‘ اور اپنی دریافت ’’ریڈیم ‘‘ سے حاصل شدہ حقوق کو مفت انسانیت کے لیے وقف کر دیا۔

ان کے اندر جو اخلاقی عظمت‘ عاجزی‘ اور خدمت کا جذبہ تھا‘ وہ سب ماں کی پرورش کا نتیجہ تھا۔ سوفی ماریکوری نے شاید خود کوئی نوبل انعام نہیں جیتا‘ نہ ہی ان کا نام سائنس کی کتابوں میں لکھا گیا ‘ مگر جو ماں اپنی بیٹی کے اندر انسانیت‘ علم ‘ قربانی اور عظمت کا چراغ روشن کرے‘ وہ کسی اعزاز کی محتاج نہیں۔ماریہ کیوری کی کامیابیاں‘ ان کی دریافتیں‘ ان کی خدمات سب سوفی کے دامن تربیت کا فیض تھا۔یقینا ایسی ماں’’قوموں کی معمار‘‘ کہلانے کی حق دار ہے۔

نیوٹن کی والدہ سے جذباتی وابستگی: نیوٹن ایک درویش مزاج انسان بن گیا‘ جو شہرت سے دور‘ تحقیق میں مگن رہتا۔ لیکن ماں کے لیے اس کی محبت دل سے تھی۔ جب مارگریٹ نیوٹن 1679میں شدید علیل ہوئیں تو نیوٹن نے اپنا سارا تحقیقی کام روک کر ان کی تیمار داری کی ‘ اور ان کے آخری لمحات تک ان کے ساتھ رہا۔ مارگریٹ کی وفات نیوٹن کے لیے ایک جذباتی صدمہ تھی۔ وہ کئی ماہ خاموش اور گم سم رہا۔ اس نے کہا:’’میری ماں کی خاموشی میں وہ آوازیں تھیں جنھوں نے مجھے کائنات سننے کا ہنر دیا‘‘۔ مارگریٹ نیوٹن نے جس بچے کو تنہائی میں جنم دیا‘ وہ بچہ دنیا کے سب سے عظیم سائنسدانوں میں شامل ہوا۔

پاؤلین آئن اسٹائن‘ آئن اسٹائن کی عظیم ماں: پاؤلین نے اپنی بیٹے کی فطری دلچسپیوں کو ابھارنے میں ہر ممکن کردار ادا کیا۔ گھر کا ماحول سادہ ‘ خاموش اور مطالعہ دوست تھا۔ پاؤلین نے آئن اسٹائن کو پیانو سکھایا اور موسیقی کے ذریعے اس کی سوچ میں ربط اور توازن پیدا کیا۔

وہ جانتی تھیں کہ ہر ذہین بچہ ضروری نہیں کہ اسکول میں چمک دکھائے‘ لیکن اگر اسے گھریلو سطح پر علم‘ سوال کرنے کی آزادی اور شعور کی پرورش ملے تو وہ دنیا بدل سکتا ہے۔جب آئن اسٹائن اسکول میں کمزور طالب علم سمجھا جاتا تھا‘ پاؤلین نے اسے کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔ اس کی سوچ کو اہمیت دی‘ اس کی بے ترتیبی کو ذہانت کا ایک انداز سمجھا‘ اور اسے کبھی ’’کمزور‘‘ یا ’’ناقص‘‘ نہیں کہا۔ پاؤلین جانتی تھیں کہ ایک حقیقی ذہانت اکثر روایتی سانچوں سے باہر ہوتی ہے۔

اپنی والدہ کے متعلق حضرت علامہ اقبال کیا کمال لکھتے ہیں۔ ذرا ملاحظہ فرمایئے :

کس کو اب ہو گا وطن میں آہ! میرا انتظار؟

کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار؟

خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا

اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا؟

اپنی تحریر کا اختتام‘ برادرم خالد مسعود کے اس ترجمہ سے کرتا ہوں جو ولیم ورڈز ورتھ نے ’’ملاح کی ماں‘‘ کے لازوال عنوان سے لکھا ہے۔

میں ہوں بے زار سفر سے‘ مگر اس آس میں آئی

کہ مجھے بیٹے کی املاک سے گر چیز ہاتھ آئے

تو اسے پاس بطور ایک نشانی رکھ لوں

یہ قفس اور پرندہ دونوں اس کے تھے

یہ پرندہ مرے بیٹے کی نشانی ہے

صاف ستھرا اور بڑا خوش تربیت

کتنے ہی سفروں میں یہ بیٹے کا ساتھی رہا

آخری سفر میں اس نے اسے پیچھے چھوڑا

شاید حالات سے وہ پیش آگاہ تھا

ایک ساتھی کی حفاظت میں کہ وہ اس کو کھلائے

اور حفظ دامن میں اسے گانے دے

اپنے بیٹے کے ٹھکانے سے

یہ زمزمہ سنج پرندہ میرے ہاتھ لگا

خدا میری بے سمجھی کو اب معاف کرے

میں اس کو ساتھ لیے پھرتی ہوں کہ یہ ایک زمانے سے

میرے بیٹے کے لیے باعث تفریح رہا

اس کالم کو میں واقعی ادھورا چھوڑنا چاہتا ہوں

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حضرت مریم رضی اللہ تعالی آئن اسٹائن اپنی ماں بیٹے کی پاو لین نے اپنی کے ساتھ کے لیے کی ماں ماں کی

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام