چند دن پہلے‘عبدالستار عاصم صاحب نے کمال مہربانی کی ۔ طالب علم کے گھر تشریف لائے اور حسب روایت چند کتابیں عطا فرمائیں۔ شام کو جب‘ ایک کتاب پر نظر پڑی تو چونک گیا۔ عنوان تھا۔ ’’ماں‘‘۔ مطالعہ شروع کیا۔ تو وقت تھم گیا۔ کتاب کب پڑھنی شروع کی کب ختم ہوئی، پتہ ہی نہیں چلا۔ ’’ماں‘‘ کے ذکر پر ‘ کون ہے جو آبدیدہ نہیں ہوتا۔ زندگی کا سب سے بے لوث رشتہ ۔آنکھوں کے سامنے‘ اپنی والدہ کا نقشہ سامنے آ گیا۔
علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم ایس سی باٹنی (Botany) ۔ پھر ‘ ایک اجنبی ملک کی طرف ہجرت اس کے بعد‘ دیار غیر میں ‘ بغیر کسی سہارے کے شعبہ تعلیم سے منسلک ہونا‘ اور آخری سانس تک تدریس کے مقدس کام میں مصروف رہنا۔ سب کچھ‘ پردہ غیب سے ذہن پر ظہورپذیر ہونے لگا۔ اس ذاتی موضوع پر کسی اور وقت قلم اٹھاؤں گا۔ آج تو صرف کتاب میں سے چند اقتباسات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی ماں کو کبھی نہیں بھلایا۔ وہ اکثرحضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قبر پر جایا کرتے تھے اور وہاں کھڑے ہو کر آنکھیں اشکبار کر لیتے تھے۔ ایک مرتبہ صحابہ کرام نے دیکھا کہ نبی کریمﷺ اپنی ماں کی قبر پر اس قدر روئے کہ ان کے ساتھ صحابہ بھی رونے لگے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ وہ اپنی ماں سے محبت کرتے ہیں۔ یہ جملہ ماں کے رشتے کی عظمت اور گہرائی کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔
حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ماں کی حیثیت سے سب سے نمایاں خصوصیت ان کی غیر متزلزل ایمان داری تھی۔ ایک عام عورت بھی ماں بن کر اپنی اولاد کے لیے بہت سی قربانیاں دیتی ہے‘ لیکن حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مقام ان تمام ماؤں سے بلند تر تھا کیونکہ ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کا نبی تھا‘ جس کے ذریعے بنی اسرائیل کو ہدایت دی گئی۔
حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تربیت اس انداز میں کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے سچے نمایندے بنے۔ ان کی تعلیمات میں محبت‘ رحمت اور خدا پرستی کا عکس صاف نظر آتا ہے اور یہ سب کچھ حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ابتدائی تربیت کا ہی نتیجہ تھا۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی زندگی میں بچوں کی تربیت کو ہمیشہ اولین ترجیح دی۔ باوجود اس کے کہ وہ ایک مصروف تاجرہ تھیں‘ اور بعد ازاں رسول اللہ ﷺ کی شریک حیات کے طور پر نبوت کے ابتدائی دور کی تمام مشکلات کا سامنا بھی کر رہی تھیں‘ انھوںنے کبھی اپنی ماں ہونے کی ذمے داری کو نظر انداز نہیں کیا۔ ان کے ہاں بچوں کے ساتھ محبت‘ شفقت‘ سلیقہ مندی اور حکمت عملی کے ساتھ تربیت ایک مستقل عمل تھا۔ انھوں نے اپنے بچوں کو وقت دیا‘ ان سے بات کی‘ ان کے احساسات کو سمجھا اور ان کی روحانی اور اخلاقی نشو ونما کا خیال رکھا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کی ماں:اس عظیم عورت کا نام ست النفر تھا۔ست النفر نے بیٹے کو صرف جنگی تربیت ہی نہیں دی بلکہ ایک ولی مزاج مجاہد بنایا۔ وہ راتوں کو تہجد پڑھ کر بیٹے کے لیے دعائیں کرتیں‘ اور دن کے وقت اسے عدل ‘ صبر‘ قناعت اور رعایا کی خدمت کا درس دیتیں۔ وہ کہا کرتی تھیں:’’بیٹا! تمہیں اللہ تعالیٰ نے طاقت دی ہے تو اس کا استعمال صرف مظلوموں کی حفاظت اور حق کے قیام کے لیے کرنا‘‘۔یہی سبق بعد میں صلاح الدین ایوبی کی زندگی کا نصب العین بنا۔
شیر میسور ٹیپو سلطان کی والدہ:فاطمہ بیگم نے اپنے بیٹے کی تربیت صرف ایک شہزادے کے طور پر نہیں کی‘ بلک ایک مجاہد‘ عابد‘ اور صالح انسان کی طرح کی۔ انھوں نے ٹیپو کو قرآن مجید کی تعلیم ‘ اسلامی تاریخ‘ سیر ت النبی ﷺ ‘ اور حکمرانی کے اصولوں سے آراستہ کیا۔ وہ اکثر ٹیپو سے کہا کرتی تھیں:’’فتح کی اصل طاقت تلوار نہیں ‘ نیت میں ہوتی ہے‘‘۔ان کی صحبت میں ٹیپو سلطان نے قناعت ‘ عدل‘ سخاوت‘ اور حیا جیسے اعلیٰ اوصاف سیکھے۔
عرض کروں گاکہ ماں کا وجود اور کردار‘ کسی مذہب‘ سماج یا ملک تک محدود نہیں ۔ ہر کامیاب انسان میں کسی نہ کسی طرح‘ اس کی والدہ کی جھلک ضرور نظر آتی ہے۔
سوفی ماریکوری۔ ماریہ کوری کی ماں:سوفی نے اپنی بیٹی کو تعلیم سے محبت‘ محنت کی عظمت ‘ اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کا سبق دیا۔ یہی اقدار ماریہ کیوری کی پوری زندگی میں جھلکتی رہیں۔ نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہونے کے باوجود ماریہ سادگی سے رہتیں‘ بغیر کسی ذاتی فائدے کے تحقیق کرتیں‘ اور اپنی دریافت ’’ریڈیم ‘‘ سے حاصل شدہ حقوق کو مفت انسانیت کے لیے وقف کر دیا۔
ان کے اندر جو اخلاقی عظمت‘ عاجزی‘ اور خدمت کا جذبہ تھا‘ وہ سب ماں کی پرورش کا نتیجہ تھا۔ سوفی ماریکوری نے شاید خود کوئی نوبل انعام نہیں جیتا‘ نہ ہی ان کا نام سائنس کی کتابوں میں لکھا گیا ‘ مگر جو ماں اپنی بیٹی کے اندر انسانیت‘ علم ‘ قربانی اور عظمت کا چراغ روشن کرے‘ وہ کسی اعزاز کی محتاج نہیں۔ماریہ کیوری کی کامیابیاں‘ ان کی دریافتیں‘ ان کی خدمات سب سوفی کے دامن تربیت کا فیض تھا۔یقینا ایسی ماں’’قوموں کی معمار‘‘ کہلانے کی حق دار ہے۔
نیوٹن کی والدہ سے جذباتی وابستگی: نیوٹن ایک درویش مزاج انسان بن گیا‘ جو شہرت سے دور‘ تحقیق میں مگن رہتا۔ لیکن ماں کے لیے اس کی محبت دل سے تھی۔ جب مارگریٹ نیوٹن 1679میں شدید علیل ہوئیں تو نیوٹن نے اپنا سارا تحقیقی کام روک کر ان کی تیمار داری کی ‘ اور ان کے آخری لمحات تک ان کے ساتھ رہا۔ مارگریٹ کی وفات نیوٹن کے لیے ایک جذباتی صدمہ تھی۔ وہ کئی ماہ خاموش اور گم سم رہا۔ اس نے کہا:’’میری ماں کی خاموشی میں وہ آوازیں تھیں جنھوں نے مجھے کائنات سننے کا ہنر دیا‘‘۔ مارگریٹ نیوٹن نے جس بچے کو تنہائی میں جنم دیا‘ وہ بچہ دنیا کے سب سے عظیم سائنسدانوں میں شامل ہوا۔
پاؤلین آئن اسٹائن‘ آئن اسٹائن کی عظیم ماں: پاؤلین نے اپنی بیٹے کی فطری دلچسپیوں کو ابھارنے میں ہر ممکن کردار ادا کیا۔ گھر کا ماحول سادہ ‘ خاموش اور مطالعہ دوست تھا۔ پاؤلین نے آئن اسٹائن کو پیانو سکھایا اور موسیقی کے ذریعے اس کی سوچ میں ربط اور توازن پیدا کیا۔
وہ جانتی تھیں کہ ہر ذہین بچہ ضروری نہیں کہ اسکول میں چمک دکھائے‘ لیکن اگر اسے گھریلو سطح پر علم‘ سوال کرنے کی آزادی اور شعور کی پرورش ملے تو وہ دنیا بدل سکتا ہے۔جب آئن اسٹائن اسکول میں کمزور طالب علم سمجھا جاتا تھا‘ پاؤلین نے اسے کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔ اس کی سوچ کو اہمیت دی‘ اس کی بے ترتیبی کو ذہانت کا ایک انداز سمجھا‘ اور اسے کبھی ’’کمزور‘‘ یا ’’ناقص‘‘ نہیں کہا۔ پاؤلین جانتی تھیں کہ ایک حقیقی ذہانت اکثر روایتی سانچوں سے باہر ہوتی ہے۔
اپنی والدہ کے متعلق حضرت علامہ اقبال کیا کمال لکھتے ہیں۔ ذرا ملاحظہ فرمایئے :
کس کو اب ہو گا وطن میں آہ! میرا انتظار؟
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار؟
خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا؟
اپنی تحریر کا اختتام‘ برادرم خالد مسعود کے اس ترجمہ سے کرتا ہوں جو ولیم ورڈز ورتھ نے ’’ملاح کی ماں‘‘ کے لازوال عنوان سے لکھا ہے۔
میں ہوں بے زار سفر سے‘ مگر اس آس میں آئی
کہ مجھے بیٹے کی املاک سے گر چیز ہاتھ آئے
تو اسے پاس بطور ایک نشانی رکھ لوں
یہ قفس اور پرندہ دونوں اس کے تھے
یہ پرندہ مرے بیٹے کی نشانی ہے
صاف ستھرا اور بڑا خوش تربیت
کتنے ہی سفروں میں یہ بیٹے کا ساتھی رہا
آخری سفر میں اس نے اسے پیچھے چھوڑا
شاید حالات سے وہ پیش آگاہ تھا
ایک ساتھی کی حفاظت میں کہ وہ اس کو کھلائے
اور حفظ دامن میں اسے گانے دے
اپنے بیٹے کے ٹھکانے سے
یہ زمزمہ سنج پرندہ میرے ہاتھ لگا
خدا میری بے سمجھی کو اب معاف کرے
میں اس کو ساتھ لیے پھرتی ہوں کہ یہ ایک زمانے سے
میرے بیٹے کے لیے باعث تفریح رہا
اس کالم کو میں واقعی ادھورا چھوڑنا چاہتا ہوں
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حضرت مریم رضی اللہ تعالی آئن اسٹائن اپنی ماں بیٹے کی پاو لین نے اپنی کے ساتھ کے لیے کی ماں ماں کی
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔