ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
آبنائے ہرمز بند کرنے کی حتمی منظوری ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل دے گی
خلیج عمان میں 2آئل ٹینکرز کا تصادم ،آبنائے ہرمز پر خدشات میں بھی اضافہ
ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی۔غیرملکی خبر ایجنسی نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایٹمی تنصیبات پر حملے کے ردعمل میں پارلیمان نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ آبنائے ہرمز بند کرنے کی حتمی منظوری ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل دے گی۔خیال رہے کہ آبنائے ہرمز، خلیج اومان اور خلیج فارس کے درمیان واقع ایک اہم سمندری گزر گاہ ہے ،اس کے شمالی ساحلوں پر ایران اور جنوبی ساحلوں پر متحدہ عرب امارات اور اومان واقع ہیں،یہ گزر گاہ کم از کم 21 میل چوڑی ہے ۔مشرق وسطیٰ میں اسرائیل ایران جنگ میں شدت آنے کے بعد زمینی صورتحال تبدیل ہورہی ہے جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں بھی ردو بدل دیکھنے میں آرہا ہے ، جنوری کے بعد خام تیل کی قیمت بلندترین سطح پرپہنچ چکی ہے ۔ کشیدگی بڑھنے پرعالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں 23 فیصد ماہانہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، خلیج عمان میں 2 آئل ٹینکرز کے تصادم کے بعد آبنائے ہرمز پر خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ا بنائے ہرمز بند کرنے کی
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔