کے الیکٹرک میٹھادر کے تاجروں کا معاشی قتل عام کررہی ہے‘ عثمان سعید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر) میٹھادر میں واقع کراچی کے قدیم ترین صرافہ بازار کے دکانداروں نے بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہونے کی صورت میں احتجاجاً کاروبار بند کرنے کی دھمکی دے دی ال کراچی جیمز اینڈ جیولر ز گروپ ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) کے صدر عثمان سعید کا کہنا ہے کہ صرافہ بازار میٹھا در جو پاکستان قیام ہونے کے بعد سے قائم صرافہ بازار ہے‘ کے الیکٹرک کی بدمعاشی عروج پر ہے۔ علاقے میں بدترین لوڈ شیڈنگ دکانداروں کا معاشی قتل کر رہی ہے۔ میٹھادرصرافہ بازار جو کراچی اور پورے پاکستان کاکاروباری و تجارتی حب ہے اس میں پورے دن میں چار چار دفعہ دو دو گھنٹے بلکہ اس سے زیادہ کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے کاروبار بالکل تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ کراچی کی جیولر برادری کے ساتھ ساتھ قرب و جوار میں رہنے اور کاروبار کرنے واے بھی بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث اذیت کا شکار ہیں۔ عثمان سعید نے کہا کہ اگر علاقے سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی گئی تو دکاندار اپنی دکانیں بند کر کے احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لوڈ شیڈنگ
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔