مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر، ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ایران نے امریکا کی جانب سے اپنی جوہری تنصیبات پر حملوں کے ردعمل میں خطے میں ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، جو دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں سے ایک تصور کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ایران اسرائیل تصادم: دنیا کے سر پر تیسری جنگ عظیم کا خطرہ منڈلا رہا ہے؟
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی پارلیمان نے باقاعدہ طور پر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی قرارداد منظور کرلی ہے، تاہم اس اقدام پر حتمی فیصلہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل (سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل) دے گی، جو ایران میں عسکری و دفاعی فیصلوں کا سب سے بااختیار ادارہ ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عمان سے ملاتی ہے اور روزانہ قریباً 2 کروڑ بیرل تیل اسی راستے سے دنیا بھر کو منتقل ہوتا ہے۔ اس گزرگاہ کے شمالی کنارے پر ایران جب کہ جنوبی کنارے پر عمان اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔ اس کی کم سے کم چوڑائی 21 میل ہے، جس کی وجہ سے اسے توانائی کے عالمی تجارتی راستوں میں نقطہ انجماد بھی کہا جاتا ہے۔
ایرانی پارلیمان کا یہ اقدام ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی نے پورے خطے کو ایک ممکنہ جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ایران کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس کی ایٹمی تنصیبات پر کیے گئے حملوں نے اس کی خودمختاری کو چیلنج کیا ہے اور اس کا سخت جواب دیا جانا لازم تھا۔
اس غیر معمولی صورتحال نے عالمی منڈی پر بھی شدید اثر ڈالا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں جنوری 2025 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) 74.
یہ بھی پڑھیں ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کردیا، تہران نے حملہ کیا تو سخت جواب دیں گے، امریکا
مزید برآں خلیج عمان میں حالیہ دنوں میں دو تیل بردار بحری جہازوں کے تصادم نے بھی آبنائے ہرمز سے متعلق عالمی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آبنائے ہرمز بند ایران ایرانی پارلیمنٹ مشرق وسطیٰ کشیدگی منظوری وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران ایرانی پارلیمنٹ مشرق وسطی کشیدگی وی نیوز
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔