کہوٹہ سے فردو ایٹمی پلانٹ تک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
جس طرح کسی زمانے میں ’’کہوٹہ کہوٹہ‘‘ ہوا کرتی تھی، آج کل دنیا بھر میں ’’فردو فردو‘‘ ہو رہی ہے، وجہ اس کی ایران کا فردو ایٹمی پلانٹ ہے جہاں یورینیم کی افزودگی کی جا رہی تھی اور امریکہ، اسرائیل اور نیٹو ممالک کا خیال تھا کہ یہاں ایٹم بم بنایا جا رہا ہے، اس لئے وہ اس پلانٹ کو تباہ کرنے پر تل گئے، طویل سسپنس کے بعد امریکہ نے 30 ہزار پائونڈ کی طاقت والے بم گرا کر اسے نشانہ بھی بنا ڈالا لیکن اپنا مقصد امریکہ پھر بھی حاصل نہ کر سکا، اس دوران نیطنز اور اصفہان کی ایرانی ایٹمی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، ایران کا موقف ہے کہ حملے کے خدشے کی وجہ سے وہ جوہری مواد پہلے ہی تینوں سائٹس سے منتقل کر چکا تھا، مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ فردو ایٹمی پلانٹ کے اصل اسٹرکچر کو اس حملے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
فردو ایٹمی پلانٹ کی تباہی کے ایشو پر امریکہ کا بس کیوں نہیں چل رہا، اس کی تفصیل بڑی دلچسپ ہے اور آج ہم آپ کو فردو یورینیم اینرچمنٹ پلانٹ کی تفصیلی کہانی سناتے ہیں جس سے آپ اس پورے معاملے کو گہرائی تک جان جائیں گے۔فارسی زبان میں ’’فردو‘‘ (Fardu / Fordow) کوئی عمومی یا معروف روزمرہ لفظ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مخصوص جغرافیائی مقام کا نام ہے جو شمالی ایران میں واقع ہے۔ ایران نے اپنے خفیہ ایٹمی پلانٹ کا نام اسی جغرافیائی مقام ’’فردو‘‘ کے نام پر رکھا جہاں یہ تنصیب تعمیر کی گئی۔ اس کا مقصد غالباً یہی تھا کہ یہ مقام کسی قدرتی پہاڑی سلسلے کے اندر ہونے کے سبب محفوظ بھی رہے اور اس کا نام مقامی جغرافیے سے میل کھائے تاکہ منصوبہ خفیہ رہے۔
یہ پلانٹ ایران کے صوبہ’’قم‘‘(Qom) میں واقع ہے، جو کہ ملک کا ایک اہم مذہبی، تعلیمی اور جغرافیائی مرکز ہے اور دارالحکومت تہران کے جنوب اور اصفہان کے شمال میں واقع ہے، قم شہر فردو کے قریب سب سے بڑا شہر ہے اور یہ پلانٹ قم شہر سے تقریباً 32 کلومیٹر کے فاصلے پر، شمال مشرق کی طرف واقع ہے۔ قم مذہبی تعلیمات اور مرجعیت کا مرکز ہے، اس لیے فردو کی اس مقام پر موجودگی نے مغربی دنیا میں خدشات کو مزید بڑھایا کہ شاید ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو ’’مقدس مقامات‘‘ کی چھتری تلے چھپا رہا ہے۔ اس جگہ کا انتخاب اس کی قدرتی جغرافیائی ساخت، خفیہ مقام، اور اس کے قم جیسے بڑے شہر سے قربت کی وجہ سے کیا گیا، امریکہ و اسرائیل کا ایک مخمصہ یہ بھی تھا کہ اس پلانٹ کو تباہ کرنے سے اگر تابکاری پھیلی تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے مقدس مقامات بھی زد میں آجائیں گے اور شدید عالمی رد عمل سامنے آئے گا، اس لئے جان بوجھ کر معاملے کو طول دیا گیا تاکہ ایران افزودہ یورینیم یہاں سے منتقل کر لے۔
ایرانی فردو ایٹمی پلانٹ گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی سیاست اور سلامتی کے منظرنامے میں اہم مقام کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ بالکل اسی طرح کی افسانوی حیثیت سابق صدر ضیا الحق کے دور میں پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو حاصل ہو گئی تھی، ایران نے یہ پلانٹ 2006 ء میں خاموشی سے پہاڑی علاقے کے نیچے تعمیر کیا، تاہم اس کی موجودگی کا باضابطہ انکشاف ایران نے 2009 ء میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو کیا۔ فردو کی خاص بات اس کی ساخت ہے یہ ایک بڑے پہاڑ کے اندر زیر زمین تقریبا ً80 سے 90 میٹر (کم و بیش 300 فٹ) گہرائی میں واقع ہے، جو اسے روایتی اور غیر روایتی فضائی حملوں سے محفوظ بناتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے پاس موجود عام bunker-buster بم بھی اس گہرائی تک موثر انداز میں نہیں پہنچ سکتے، جس کی وجہ سے یہ پلانٹ دفاعی لحاظ سے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔
حالیہ برسوں میں IAEA کی رپورٹس کے مطابق فردو پلانٹ میں 83.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز میں ہی فردو پلانٹ پر “GBU-57 Massive Ordnance Penetrator” جیسے طاقتور بم سے حملے کا منصوبہ بنایا اور پھر اس پر عمل بھی کر ڈالا، جی بی یو 57 نان نیوکلیئر ایٹم بم بھی کہلاتا ہے، یہ 30 ہزار پائونڈ طاقت والا بم ہے اور bunker-buster بموں میں سب سے زیادہ گہرائی میں اثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، پینٹاگون کی اندرونی رپورٹوں کے مطابق اس بم کے موثر ہونے پر شبہات تھے۔ حملے کے نتیجے میں ممکنہ علاقائی جنگ اور ایران کی شدید جوابی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر صدر ٹرمپ نے آخری لمحات میں اس منصوبے کو دو ہفتوں کیلئے موخر کر دیا، ایران سے یورپی ممالک کے ذریعے مذاکرات بھی لیکن لیکن ایران ڈٹ گیا۔
امریکہ کے پاس کئی ممکنہ آپشنز زیرِ غور تھے، ان میں روایتی فضائی حملے، اسرائیل کی مدد سے محدود آپریشنز، سائبر حملے، یا ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار کا استعمال شامل تھا۔ سب سے خطرناک اور نتیجہ خیز آپشن ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں کا ہے، جو پلانٹ کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے، لیکن اس کے سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مضمرات عالمی سطح پر خطرناک ہوں گے۔ عالمی سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق اگر امریکہ نے اتوار والے حملے کی ناکامی ڈیکلیئر ہونے پر اس ایٹمی آپشن کو اپنایا تو نہ صرف ایران بلکہ چین اور روس بھی شدید ردعمل دیں گے۔ فردو ایٹمی پلانٹ اب محض ایک فنی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اب یہ مشرقِ وسطی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک آزمائشی لمحہ بن چکا ہے۔ سفارتی حل کی کوشش ناکام ہو چکی، دنیا ایک اور بڑی عسکری مہم جوئی کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فردو ایٹمی پلانٹ میں واقع ہے یہ پلانٹ پلانٹ کو تھا کہ ہے اور
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔