وفاق کی طرز پر الاؤنس کے لیے احتجاج، پشاور میں سرکاری ملازمین پر شیلنگ اور لاٹھی چارچ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کی کال پر وفاق کی طرز پر ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کی فراہمی سمیت دیگر مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔
احتجاج سرکاری ملازمین اسمبلی اجلاس سے قبل بڑی تعداد میں اسمبلی چوک پہنچے اور خیبر روڈ کو یکطرفہ ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا بجٹ 2025: افسران کے الاؤنسز میں کٹوتی اور نچلے ملازمین کے لیے ریلیف کی تیاری
مظاہرین کا مؤقف تھا کہ جب وفاقی ملازمین کو 25 سے 30 فیصد ڈسپیریسی ریڈکشن الاؤنس دیا جا سکتا ہے، تو خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین کو کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے اس دور میں کم تنخواہوں پر گزارا ممکن نہیں اور حکومت کو فوری طور پر کم از کم اجرت 50 ہزار روپے مقرر کی جانی چاہیے۔
احتجاج شدت اختیار کرنے پر پولیس حرکت میں آ گئی۔ حکام کے مطابق مظاہرین کو بارہا مذاکرات کی دعوت دی گئی، تاہم روڈ کلیئر نہ کیے جانے پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارچ کا استعمال کیا، شیلنگ کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے، تاہم احتجاج کے دوران ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر رہی۔
مزید پڑھیں: وفاق سے فنڈز نہ ملنے پر عوام اور پولیس کو لے کر احتجاج پر نکلوں گا، علی امین گنڈاپور کی دھمکی
مظاہرین نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ احتجاج مزید منظم اور وسیع پیمانے پر کیا جائے گا، حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کی جانب سے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کی فراہمی سمیت کم از کم اجرت 50 ہزار روپے مقرر کرنے، کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے اور پینشن اصلاحات کے قانون کو واپس لینے کے مطالبات کیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس خیبر پختونخوا ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس سرکاری ملازمین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سرکاری ملازمین سرکاری ملازمین خیبر پختونخوا کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔