ایران پر امریکی حملہ، جماعت اسلامی آج ملک گیر یوم احتجاج منائے گی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے تمام ذمہ داران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ پورے ملک میں امریکہ مردہ باد نعرے کے تحت احتجاج کیا جائے۔ اگر امریکہ نے یہ جنگ فوری طورپر بند نہ کی تو آنیوالے دنوں میں ملک گیر احتجاجی تحریک کو مزید منظم کیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان نے ایران پر امریکی حملے کیخلاف آج ملک گیر یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ایران پر امریکا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی پشت پناہی کے بعد اب واشنگٹن کھل کر سامنے آگیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکی جارحیت دنیا کا امن تباہ کرنے کے مترادف ہے، امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کیخلاف مسلم اُمہ کومتحد ہونا ہوگا۔
دریں اثناء امریکہ کی طرف سے ایران پر ہونیوالی جارحیت اور بمباری کیخلاف جماعت اسلامی ملک بھر میں آج (پیر کو) یوم احتجاج منائے گی۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے تمام ذمہ داران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ پورے ملک میں امریکہ مردہ باد نعرے کے تحت احتجاج کیا جائے۔ اگر امریکہ نے یہ جنگ فوری طورپر بند نہ کی تو آنیوالے دنوں میں ملک گیر احتجاجی تحریک کو مزید منظم کیا جائیگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی ایران پر ملک گیر
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔