وزیراعظم کی کیش لیس نظام کو فروغ دینے کیلئے ڈیجیٹل لین دین کو آسان بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس اکانومی سے متعلق اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے ڈیجیٹل لین دین کو آسان بنانے کی ہدایت کردی۔
اجلاس میں وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر شریک تھے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ڈیجیٹل پبلک انفرا اسٹرکچر کمیٹی اور گورنمنٹ پیمنٹس کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستانی فارما کمپنیوں کو عالمی ادارۂ صحت سے ایکریڈیشن کرانے کی ہدایت کر دی۔
خصوصی سب کمیٹیاں ادائیگیوں، ڈیجیٹل نظام سے متعلق آگاہی اور سفارشات پیش کریں گی۔
وزیراعظم نے ادائیگیوں کے ڈیجیٹل نظام راست کو وفاق سمیت تمام صوبوں میں قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ معیشت میں شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل لین دین کا نظام قائم کرنا انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک اور کامیاب معیشتوں میں کیش لیس نظام کو ترجیح دی جا رہی ہے، لین دین، ادائیگیوں کے ڈیجیٹل نظام کے قیام کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال میں لائی جائے۔
شہباز شریف نے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان لین دین کو کیش لیس بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بینکاری نظام کے تحت زیر گردش رقوم کو حکومتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی ہدایت کیش لیس لین دین
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔