اسحاق ڈار پاک امارات مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں شرکت کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار 24 جون 2025 کو ابوظہبی میں ہونے والے پاکستان متحدہ عرب امارات مشترکہ وزارتی کمیشن کے 12ویں اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ حالات میں مسلم امہ کا اتحاد اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں، اسحاق ڈار
دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ وزارتی کمیشن پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دو طرفہ تعاون کے لیے اعلیٰ ترین ادارہ جاتی فورم ہے۔ یہ اجلاس دونوں برادر ممالک کے درمیان تزویراتی، اقتصادی اور ترقیاتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گا۔
پاکستانی وفد میں اقتصادی امور، تجارت، توانائی، بحری امور اور داخلہ کی اہم وزارتوں کے سیکریٹریز اور سینیئر حکام شامل ہوں گے۔
مزید پڑھیے: امت مسلمہ کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، ملکر مسائل سے نمٹنا ہوگا، اسحاق ڈار کا او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب
متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس اجلاس کی قیادت نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان اور کریں گے۔ ان کے ہمراہ متعلقہ اماراتی اداروں کے اعلیٰ سطحی نمائندگان ہوں گے۔
اجلاس میں دو طرفہ تعاون کے مختلف شعبوں میں پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں نئے امکانات تلاش کیے جائیں گے۔ اجلاس کے دوران مختلف قانونی معاہدوں کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے تاکہ شعبہ جاتی تعاون کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی استنبول میں ایرانی ہم منصب سے ملاقات، ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کی مذمت
یہ اجلاس دونوں ممالک کے لیے اپنی اقتصادی ترجیحات کو ہم آہنگ کرنے اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو وسعت دینے کے امکانات کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار پاکستان متحدہ عرب امارات مشترکہ وزارتی کمیشن دفتر خارجہ پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار پاکستان متحدہ عرب امارات مشترکہ وزارتی کمیشن دفتر خارجہ پاکستان مشترکہ وزارتی کمیشن متحدہ عرب امارات اسحاق ڈار
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،