مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استبول(خبرایجنسیاں) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی۔ترکیہ کے دارالحکومت استبول میں او آئی سی میں مقبوضہ کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، کشمیری کئی دہائیوں سے ان مظالم کا سامنا کررہے ہیں،کشمیر اور فلسطین کے عوام اپنے حقوق کے لیے جہدوجہد کررہے ہیں، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے، پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی۔نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے پہل گام واقعہ پر تحقیقات کے بجائے جارحیت کا راستہ اپنایا اور پاکستان پر بے بنیاد الزام لگا دیا،پاکستان بھارت کے خلاف جارحیت کا دفاع کررہا ہے ، پاکستان نے بھارت پر حملے کے دوران صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے حملوں کے دوران پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا کہ بھارت کے حملے سے شہری علاقوں میں مرد وخواتین اور بچے شہید ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تھا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔