پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور حربی مہارت کی دنیا پہلے ہی معترف ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکی جرأت مند قیادت میں اپنے سے چارگنا بڑے دشمن کو محض چار روز میں ہی پاک فوج کے شاہینوں نے جس عبرت ناک شکست سے دوچارکیا ہے اس کے بعد عالمی سطح پر فیلڈ مارشل عاصم منیرکی قائدانہ صلاحیت، دلیرانہ فیصلے اور بروقت و فیصلہ کن جوابی وار کرنے کے ہنر کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔
ان کی ستائش کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مجبور ہو گئے ہیں، جو یقینا پاک فوج، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وطن عزیز کے لیے ایک بڑے اعزازکی بات ہے۔ دنیا بھر میں پاک فوج کی پذیرائی کے باعث بھارت کا پیچ و تاب کھانا ناقابل فہم نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرکو پاک بھارت جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے وہائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر مدعو کیا۔ بھارت میں تو جیسے آگ لگ گئی۔ اس کا متعصب میڈیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دعوت اور پذیرائی پر چراغ پا ہوگیا ہے اور پاک فوج اور پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے جیساکہ پہلگام واقعے اور پھر پاک بھارت جنگ کے دوران کرتا رہا ہے۔
اگرچہ انڈیا کی اپوزیشن جماعتیں اور غیر جانب دار حلقے نریندر مودی پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود مودی سرکار کھلے دل سے اعتراف شکست کے لیے آمادہ نہیں بلکہ جنگ بندی کے باوجود ’’آپریشن سندور‘‘ جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ مودی صدر ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کے کردار سے نہ صرف انکاری ہے بلکہ جنگ رکوانے میں بھی صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں جو ان کی روایتی ہٹ دھرمی، تعصب پسندی اور تنازعہ کشمیر کے حل سے فرار کی عکاس ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی تاریخی ملاقات کے دوران پاک بھارت اور پاک امریکا تعلقات سمیت جاری ایران اسرائیل جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان انسداد دہشت گردی، باہمی تجارت، توانائی و دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے جنگ کو آگے بڑھنے سے روکا۔ عاصم منیر پاکستان کی بااثر شخصیت ہیں، ان سے ملاقات کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور میں نے عاصم منیر کا شکریہ ادا کرنے کے لیے انھیں ظہرانے پر مدعو کیا۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تاریخی ملاقات کے حوالے سے دنیا بھر کے پریس اور الیکٹرانک میڈیا میں تبصرے اور تجزیے کیے جا رہے ہیں اور خطے کے امن بالخصوص ایران اسرائیل جاری جنگ اور بھارت کے ساتھ پاکستان کی مسلسل کشیدہ صورت حال اور پاکستان و امریکا کے مستقبل کے حوالے سے خوش گوار امکانی تعلقات پر مختلف النوع آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس ملاقات کے نتائج و اثرات کے حوالے سے بھی بحث کی جا رہی ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پاکستان کے کسی آرمی چیف کو امریکی صدر نے ون ٹو ون ملاقات کے لیے ازخود وہائٹ ہاؤس ظہرانے پر مدعو کیا ہو۔ بعینہ اس بات کا کھلے بندوں اعتراف کیا ہو کہ وہ پاکستان کے بااثر ترین شخص ہیں اور ان سے ملنا امریکی صدر کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔
آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں پاکستان اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ مد و جزر کی کیفیت سے گزرتے رہے ہیں۔ امریکا نے پاکستان کے ساتھ کبھی مخلصانہ دوستی کا کردار ادا نہیں کیا۔ افغان جنگ سے لے کر سانحہ 9/11 تک اور اس کے بعد کی تمام صورت حال اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان ہمیشہ قیام امن کا داعی رہا ہے اس کا ہر اقدام صرف امن کے قیام کے لیے رہا۔
دہشت گردی نے پاکستان کی جڑوں کو نقصان پہنچایا۔ اس کے خاتمے کے لیے پاک فوج نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا حق اور فرض ادا کیا لیکن امریکا ہمیشہ ڈو مور کے مطالبات کرکے پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہا ہے۔
تاہم یہ امر خوش آیند ہے کہ آج کی ٹرمپ انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف کر رہی ہے جیساکہ چند روز پیش تر امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں اہم دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے بھی پاکستان کے روایتی موقف کی پاس داری کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے اور خطے کے امن پر زور دیا۔
صدر ٹرمپ اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق ایران اسرائیل جنگ کو رکوانے اور غزہ پر اسرائیلی حملے بند کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ دنیا کا ہر مسئلہ حل کروا سکتے ہیں تو پھر تنازعہ کشمیر حل کروانے میں اپنا تعمیری کردار ادا کریں، بہ صورت دیگر بھارت جنگی جنون کے پیش نظر خطے کی دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان خطرناک تصادم رونما ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے پاس آخری اور تاریخی موقعہ ہے کہ وہ فلسطین و کشمیر کے دیرینہ تنازعات حل کروا کے تاریخ میں اپنا نام امر کردیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران اسرائیل پاک بھارت جنگ کے حوالے سے پاکستان کی کہ پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے امریکی صدر ملاقات کے رہے ہیں پاک فوج اور پاک ٹرمپ کی کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔