Express News:
2026-06-03@03:36:00 GMT

تاریخی موقعہ!

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور حربی مہارت کی دنیا پہلے ہی معترف ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکی جرأت مند قیادت میں اپنے سے چارگنا بڑے دشمن کو محض چار روز میں ہی پاک فوج کے شاہینوں نے جس عبرت ناک شکست سے دوچارکیا ہے اس کے بعد عالمی سطح پر فیلڈ مارشل عاصم منیرکی قائدانہ صلاحیت، دلیرانہ فیصلے اور بروقت و فیصلہ کن جوابی وار کرنے کے ہنر کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔

ان کی ستائش کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مجبور ہو گئے ہیں، جو یقینا پاک فوج، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وطن عزیز کے لیے ایک بڑے اعزازکی بات ہے۔ دنیا بھر میں پاک فوج کی پذیرائی کے باعث بھارت کا پیچ و تاب کھانا ناقابل فہم نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرکو پاک بھارت جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے وہائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر مدعو کیا۔ بھارت میں تو جیسے آگ لگ گئی۔ اس کا متعصب میڈیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دعوت اور پذیرائی پر چراغ پا ہوگیا ہے اور پاک فوج اور پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے جیساکہ پہلگام واقعے اور پھر پاک بھارت جنگ کے دوران کرتا رہا ہے۔

اگرچہ انڈیا کی اپوزیشن جماعتیں اور غیر جانب دار حلقے نریندر مودی پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود مودی سرکار کھلے دل سے اعتراف شکست کے لیے آمادہ نہیں بلکہ جنگ بندی کے باوجود ’’آپریشن سندور‘‘ جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ مودی صدر ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کے کردار سے نہ صرف انکاری ہے بلکہ جنگ رکوانے میں بھی صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں جو ان کی روایتی ہٹ دھرمی، تعصب پسندی اور تنازعہ کشمیر کے حل سے فرار کی عکاس ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی تاریخی ملاقات کے دوران پاک بھارت اور پاک امریکا تعلقات سمیت جاری ایران اسرائیل جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان انسداد دہشت گردی، باہمی تجارت، توانائی و دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے جنگ کو آگے بڑھنے سے روکا۔ عاصم منیر پاکستان کی بااثر شخصیت ہیں، ان سے ملاقات کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور میں نے عاصم منیر کا شکریہ ادا کرنے کے لیے انھیں ظہرانے پر مدعو کیا۔

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تاریخی ملاقات کے حوالے سے دنیا بھر کے پریس اور الیکٹرانک میڈیا میں تبصرے اور تجزیے کیے جا رہے ہیں اور خطے کے امن بالخصوص ایران اسرائیل جاری جنگ اور بھارت کے ساتھ پاکستان کی مسلسل کشیدہ صورت حال اور پاکستان و امریکا کے مستقبل کے حوالے سے خوش گوار امکانی تعلقات پر مختلف النوع آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اس ملاقات کے نتائج و اثرات کے حوالے سے بھی بحث کی جا رہی ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پاکستان کے کسی آرمی چیف کو امریکی صدر نے ون ٹو ون ملاقات کے لیے ازخود وہائٹ ہاؤس ظہرانے پر مدعو کیا ہو۔ بعینہ اس بات کا کھلے بندوں اعتراف کیا ہو کہ وہ پاکستان کے بااثر ترین شخص ہیں اور ان سے ملنا امریکی صدر کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔

آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں پاکستان اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ مد و جزر کی کیفیت سے گزرتے رہے ہیں۔ امریکا نے پاکستان کے ساتھ کبھی مخلصانہ دوستی کا کردار ادا نہیں کیا۔ افغان جنگ سے لے کر سانحہ 9/11 تک اور اس کے بعد کی تمام صورت حال اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان ہمیشہ قیام امن کا داعی رہا ہے اس کا ہر اقدام صرف امن کے قیام کے لیے رہا۔

دہشت گردی نے پاکستان کی جڑوں کو نقصان پہنچایا۔ اس کے خاتمے کے لیے پاک فوج نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا حق اور فرض ادا کیا لیکن امریکا ہمیشہ ڈو مور کے مطالبات کرکے پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہا ہے۔

تاہم یہ امر خوش آیند ہے کہ آج کی ٹرمپ انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف کر رہی ہے جیساکہ چند روز پیش تر امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں اہم دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے بھی پاکستان کے روایتی موقف کی پاس داری کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے اور خطے کے امن پر زور دیا۔

صدر ٹرمپ اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق ایران اسرائیل جنگ کو رکوانے اور غزہ پر اسرائیلی حملے بند کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ دنیا کا ہر مسئلہ حل کروا سکتے ہیں تو پھر تنازعہ کشمیر حل کروانے میں اپنا تعمیری کردار ادا کریں، بہ صورت دیگر بھارت جنگی جنون کے پیش نظر خطے کی دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان خطرناک تصادم رونما ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے پاس آخری اور تاریخی موقعہ ہے کہ وہ فلسطین و کشمیر کے دیرینہ تنازعات حل کروا کے تاریخ میں اپنا نام امر کردیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران اسرائیل پاک بھارت جنگ کے حوالے سے پاکستان کی کہ پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے امریکی صدر ملاقات کے رہے ہیں پاک فوج اور پاک ٹرمپ کی کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت