مکہ مکرمہ(نیوز ڈیسک)مسجد الحرام کے صحن میں ایک انڈونیشین خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ نایاب واقعہ سعودی عرب کی ہنگامی طبی ٹیموں کی تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت ممکن ہوا۔

سعودی ہلال احمر اتھارٹی نے اپنے بیان میں اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسجد الحرام سے جمعہ کی صبح 9 بجکر 21 منٹ پر ایک ایمرجنسی کال موصول ہونے کے بعد مسجد کے صحن میں ایمبولینس ٹیم نے تمام تر طبی اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے صورتحال کو سنبھالا۔

بیان میں بتایا گیا کہ ڈیلیوری کے بعد ماں اور نوزائیدہ بچے دونوں کو قریب ترین مرکزِ صحت میں منتقل کردیا گیا اور اب دونوں کی حالت مستحکم ہے۔

بیان میں طبی ایمرجنسی کی صورت میں فوری رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ عازمین حکام کو اپنی صحیح لوکیشن بتانے کے لیے ایمرجنسی نمبر 997، ’آسفنے‘ موبائل ایپ یا ’توکلنا‘ ایپ کا استعمال کریں۔

علاوہ ازیں، سعودی ہلال احمر اتھارٹی نے دنیا بھر سے آنے والے عازمین کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور مقدس مقامات پر ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
مزیدپڑھیں:ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ،امریکا نے چین سے مدد مانگ لی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے