16ویں سمر ڈیووس فورم میں چینی وزیراعظم شریک ہوں گے، وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
بیجنگ :چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ وزیراعظم چین لی چھیانگ 24 تا 25 جون کو تھیان جن شہر میں منعقد ہونے والے 16 ویں سمر ڈیووس فورم میں شرکت کریں گے۔ فورم کے دوران وزیراعظم لی چھیانگ افتتاحی تقریب سے خصوصی خطاب کریں گے ،فورم میں شریک غیرملکی مہمانوں سے ملاقات کریں گے اور غیرملکی صنعتی و کاروباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ایکواڈور کے صدر ڈینیل نوبوا، سنگاپور کے وزیر اعظم لارنس وونگ، کرغزستان کے وزیر اعظم کاشمالیئیف، سینیگال کے وزیر اعظم سونکو اور ویتنام کے وزیر اعظم فام منہ چن فورم میں شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں سیاسی، کاروباری، تعلیمی اور میڈیا حلقوں سے تعلق رکھنے والے 90 سے زائد ممالک اور خطوں کے 1700 سے زائد نمائندے شرکت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔