ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے قطر میں واقع امریکی العدید ایئربیس پر میزائل حملے کے بعد ردعمل میں واضح کیا ہے کہ ایرانی کارروائی سے نہ تو قطر کو اور نہ ہی قطری شہریوں کو کوئی خطرہ لاحق ہے، کیونکہ حملہ مکمل طور پر عسکری ہدف پر مرکوز تھا۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جو تم پر حملہ کرے، تم بھی اس پر ویسا ہی حملہ کرو۔ بیان کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکا کے حملے کے ردعمل میں ایرانی مسلح افواج نے العدید ایئربیس کو نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں ایران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا آغاز کردیا، فوجی آپریشن کو کیا نام دیا گیا ہے؟

سپریم کونسل نے کہاکہ یہ حملہ مکمل طور پر دفاعی حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا، اور اس کامیاب آپریشن میں وہی تعداد استعمال کی گئی جتنی بمباری امریکا نے ایرانی جوہری تنصیبات پر کی تھی۔

ایرانی حکام نے مزید وضاحت کی کہ جس مقام کو نشانہ بنایا گیا، وہ شہری آبادی سے دور واقع تھا، تاکہ قطر کو کسی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔

سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایران قطر کے ساتھ اپنے برادرانہ اور تاریخی تعلقات کو نہ صرف قائم رکھنا چاہتا ہے بلکہ ان میں مزید وسعت کا خواہاں ہے۔ ہمارے حملے سے قطری سرزمین یا شہریوں کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں، اور ہم قطر کے امن و استحکام کے حامی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قریب امریکی العدید ایئربیس پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ایران نے قطر کی جانب 6 بیلسٹک میزائل فائر کیے۔

یہ بھی پڑھیں ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر حملے سے قبل قطر کو آگاہ کر دیا تھا، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

قطر نے ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہوئے ردعمل کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ حملے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ ایئربیس کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی ایئربیس ایران سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل حملہ قطر وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی ایئربیس ایران سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل حملہ وی نیوز نیشنل سیکیورٹی کونسل ایران نے یہ بھی

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران