’ صدر ٹرمپ خلیج فارس میں مزید کسی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتے‘، امریکی سیکیورٹی اہلکار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
امریکی ٹی وی سی این این نے کہا ہے کہ امریکی صدر خلیج فارس میں مزید کسی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتے۔
سی این این کے مطابق سینیئر امریکی سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ایران کے قطر میں امریکی ایئربیس پر داغے گئے میزائل ہدف پر نہیں گرے، نہ ایرانی میزائل حملوں سے کوئی جانی نقصان ہوا ہے، میزائلوں کو راستے میں ہی روک لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر حملے سے قبل قطر کو آگاہ کر دیا تھا، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ
اہلکار کا کہنا ہے کہ ترمپ انتظامیہ کو ایران کی کارروائی کا اندازہ تھا، اس لیے امریکا نے قطر ایئربیس 3 روز قبل ہی خالی کردیا تھا، ایران نے 2020 میں بھی اسی طرح کا ردعمل ظاہر کیا تھا، جب امریکا نے ایرانی جنرل قاسم سیلیمانی کو فضائی حملے میں ہلاک کیا تھا۔
امریکی اہلکار کا مزید کہنا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشیدگی بڑھانے پر تیار ہیں، صدر ٹرمپ قومی سلامتی کے حکام سے بھی بات چیت کریں گے جس کے بعد ان کے خیالات تبدیل بھی ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا ہدف امریکی ایئربیس تھا، برادر ملک قطر اور اس کے شہریوں کو کوئی خطرہ نہیں، ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ قطر میں امریکی ایئربیسز پر حملے سے آگاہ ہیں، وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی فوج نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے ہیں۔ جس کی قطر کی جانب سے مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہم دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکی ایئربیس ایران دوحہ ڈونلڈ ٹرمپ قطر میزائل حملہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ایئربیس ایران ڈونلڈ ٹرمپ میزائل حملہ امریکی ایئربیس قطر میں امریکی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔