کاغان : سیاحوں کی گاڑی دریائے کنہار میں جاگری، میاں بیوی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
سید نعمان شاہ: خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقام کاغان میں گاڑی دریائے کنہار میں جاگری، میاں بیوی موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کا 5 سالہ بچہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔
کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں سے مرد کی شناخت جمشید کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک کے علاقے خضرو سے بتایا گیا ہے، دونوں میاں بیوی کی لاشیں بی ایچ یو کاغان منتقل کر دی گئیں۔
یوٹیوب ویڈیوز کو اے آئی ٹولز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے
حکام کا کہنا ہے کہ 5 سالہ بچے کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی ہے، اور وہ مکمل طور پر خیریت سے ہے۔
کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ ورثاء کے پہنچنے تک بچے کو اتھارٹی اپنی حفاظت میں رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔