لاہور، کراچی اور اسلام آباد ایئرپورٹس پر خودکار امیگریشن نظام متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
پاکستان کے تین بڑے ہوائی اڈوں پر ای گیٹس کی تنصیب کے منصوبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق، جرمنی سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران ای گیٹس کے بنیادی ڈیزائن کو حتمی شکل دے دی ہے۔
ترجمان پی اے اے نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس پر جدید ای گیٹس نصب کیے جائیں گے، جس سے مسافروں کو خودکار نظام کے تحت تیز رفتار امیگریشن کی سہولت حاصل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:
’اس نظام کے ذریعے نہ صرف مسافروں کا قیمتی وقت بچے گا بلکہ ایئرپورٹس پر امیگریشن کا عمل بھی مزید مؤثر اور شفاف ہو جائے گا۔‘
اس ضمن میں منعقدہ ایک 3 روزہ ورکشاپ کے دوران جرمن ماہرین نے منصوبے سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کر لی ہے، ترجمان کے مطابق، یہ اقدام پاکستان کے ہوائی اڈوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہم آہنگ کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
مزید پڑھیں:
ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ منصوبہ ایئرپورٹس کے لیے ایک محفوظ، قابلِ توسیع اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ حل فراہم کرے گا۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ منصوبے پر کام کرنے والے کنسلٹنٹس معاہدے کے مطابق تسلی بخش انداز میں کام کر رہے ہیں، اور تمام پہلوؤں پر پیش رفت اطمینان بخش ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق ملک میں ای گیٹس کا نفاذ مسافروں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جس سے ہوائی سفر کے تجربے میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیک ہولڈرز امیگریشن ای گیٹس پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی پی اے اے ترجمان خودکار نظام کنسلٹنٹس ہوائی سفر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیک ہولڈرز امیگریشن ای گیٹس پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی پی اے اے خودکار نظام کنسلٹنٹس ہوائی سفر پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔