امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: ٹرمپ کو غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری کی اجازت مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: ٹرمپ کو غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری کی اجازت مل گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 24 June, 2025 سب نیوز
نیویارک:امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے حق میں اہم فیصلہ سنا دیا ہے، جس کے تحت اب ٹرمپ کو غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی اجازت حاصل ہو گئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے کو ٹرمپ کے لیے امیگریشن پالیسی میں ایک بڑی قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل، سپریم کورٹ نے ایک اور مقدمے میں ٹرمپ انتظامیہ کو پناہ گزینوں کی ملک بدری سے روک دیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کے لیے 24 اپریل تک کی ڈیڈ لائن دی تھی، اور اس دوران ان کی قانونی حیثیت ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
پہلے فیصلے میں عدالت نے ٹرمپ کو ’Alien Enemies Act‘ کے تحت ملک بدری سے روک دیا تھا، جس پر صدر نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ججز مجھے وہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہے جس کے لیے عوام نے مجھے منتخب کیا۔‘‘
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایرانی حملہ ناقابل قبول، جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں: قطری وزیراعظم ایرانی حملہ ناقابل قبول، جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں: قطری وزیراعظم چین کا اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر باہمی تعلقات کے فروغ کے لئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا اعلان بات چیت ہی ایرانی جوہری مسئلے کے حل کا واحد درست راستہ ہے، چینی میڈیا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس میں چینی سفیر کی ایران پر امریکی حملے کی مذمت چینی صدر جاپانی جارحیت اور فاشزم کے خلاف فتح کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتیاں یہی سے ہونی چاہئیں، جسٹس (ر) شوکت صدیقیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غیر قانونی تارکین وطن سپریم کورٹ ملک بدری کی اجازت ٹرمپ کو
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔