ایران اسرائیل جنگ بندی، کیا بلوچستان میں کاروبار کی صورتحال بہتر ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایران اسرائیل جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اپنے جاری کردہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ جنگ بندی اب نافذ العمل ہو چکی ہے۔ تمام فریقین سے اپیل ہے کہ براہِ کرم جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کریں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ صورتحال کے پیش نظر حکومت پاکستان کی جب سے پاک ایران سرحد کو غیر معینہ مدت تک بند کر دیا گیا تھا جس کے سبب ایرانی سرحد سے منسلک علاقوں میں پیٹرول اور غذائی قلت کا سامنا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی سے بلوچستان میں کاروبار کی صورت حال بہتر ہوگی یا نہیں؟
یہ بھی پڑھیں ایران اسرائیل جنگ بندی سے پاکستان کی معیشت کو کیسے فائدہ پہنچے گا؟
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سابق صدر ایوان صنعت و تجارت فدا حسین نے کہاکہ ایران اور پاکستان کے درمیان سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اس کے علاوہ مقامی آبادی کی ضروریات زندگی کا انحصار ایران کی سرحد سے منسلک ہے، سرحد بند ہونے سے نوجوان جو روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کے سلسلے میں سرحد پار کرتے تھے اب تک بے روزگار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دوسری جانب چھوٹے پیمانے پر لوگ پاکستان سے اشیائے ضروریہ ایران سے پاکستان لایا کرتے تھے جس سے ایک توازن قائم تھا۔
فدا حسین نے کہاکہ سرحد بند ہونے سے پیدل آمدرفت سمیت کاروباری سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی تو ہوگئی ہے لیکن اب تک حکومت نے سرحدیں کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا، جس کی وجہ سے پیٹرول کی قلت کا سامنا ہے ایسے میں حکومت کو جلد از جلد سرحد کھولنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب پاک ایران سرحدی علاقے تربت کے مقامی تاجر احمد بلوچ نے بتایا کہ حکومت نے جب سے سرحد بند کی ہے تب سے علاقے میں صورتحال بہتر نہیں، اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ منافع خوروں نے دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا ہے تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد آئندہ چند دنوں میں صورتحال بہتر ہونے کے امکانات روشن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اسرائیل اور ایران دونوں سے خوش نہیں ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے تاحال سرحدوں کو کھولنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا البتہ پنجگور میں سرحد کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے پہلے ہی کھول دیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل ایران جنگ اشیائے ضروریہ پاک ایران سرحد کاروباری صورت حال کشیدگی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران جنگ اشیائے ضروریہ پاک ایران سرحد کاروباری صورت حال کشیدگی وی نیوز کے درمیان نے کہاکہ
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔