سارہ خان ’فیمنزم‘ کی وجہ ہی سے شوبز میں ہیں، ریحام خان
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
کراچی(شوبز ڈیسک)پروڈیوسر، لکھاری و سابق صحافی ریحام خان نے کہا ہے کہ سارہ خان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ وہ ’فیمنزم‘ کی وجہ سے ہی شوبز انڈسٹری کا حصہ ہے، انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ ’فیمنزم‘ پر یقین نہیں رکھتیں۔
سارہ خان نے گزشتہ ماہ مئی کے وسط میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ خود کو ’بہت بڑی فیمنسٹ‘ نہیں سمجھتیں، وہ خود کو پرانے وقتوں کی عورت تصور کرتی ہیں۔
اداکارہ کے مطابق وہ چاہتی ہیں کہ مردوں کو وہ مقام ملے جو ان کے لیے مخصوص ہے تاکہ خواتین سکون سے زندگی گزار سکیں۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ وہ ایک گھر میں رہنے والی عورت ہیں، انہیں بل بھرنے کے لیے قطاروں میں لگنا پسند نہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ انہیں وہی پروٹوکول ملے جیسا پرانے وقتوں کی عورتوں کو ملتا تھا۔
اب ان کے بیان پر ریحام خان نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ سارہ خان کو ایسا بات بھی نہیں کرنی چاہیے تھی۔
ریحام خان نے ’ایف ایچ ایم‘ پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سارہ خان ان کے شوہر فلک شبیر کی وجہ سے جانتی ہیں، ان کے شوہر بہت اچھے ہیں جو ان کے لیے ہر روز پھول لاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سارہ خان بھی ایک بیٹی کی ماں ہیں، کل کو ان کی بیٹی بھی دوسرے گھر میں بیاہی جائیں گی، تب اگر ان کی بیٹی کے ساتھ کچھ غلط ہو تو ان کا کیا رد عمل ہوگا؟
ان کے مطابق سارہ خان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ وہ ’فیمنزم‘ کی وجہ سے ہی شوبز میں کام کر رہی ہیں، وہ اس کی وجہ سے ہی مشہور ہیں۔
انہوں نے دلیل دی کہ اگر ’فیمنزم‘ نہ ہوتا، خواتین کے حقوق کی تحریکیں نہ چلتیں تو سارہ خان بھی شوبز میں کام نہ کر رہی ہوتیں، اگر وہ آج ڈراموں اور اشتہارات میں نظر آتی ہیں تو اس کا کریڈٹ ’فیمنزم‘ کو جاتا ہے۔
ریحام خان کا کہنا تھا کہ سارہ خان کو یہ بات ہی نہیں کرنی چاہیے تھی کہ وہ ’فیمنزم‘ پر یقین نہیں رکھتیں۔
ان کے مطابق خواتین کی جانب سے ایسے بیانات دینا دراصل طویل عرصے تک خواتین کو دبائے جانے اور انہیں حقوق تک رسائی نہ دینے کا نتیجہ ہیں لیکن خود مختار خواتین کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہیے۔
مزیدپڑھیں:کرشمہ کپور، بچے، نہ بہن، سنجے کپور کی 30 ہزار کروڑ کی کاروباری سلطنت کا وارث کون؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سارہ خان کو کہ سارہ خان کی وجہ سے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔