ایشین ڈبلز اسکواش: کوریا کو ہراکر پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
اسکواش کی دنیا میں اپنا مقام دوبارہ چھیننے کے سفر پر گامزن پاکستان نے ایشین ڈبلز اسکواش چیمپیئن شپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا کر ایک اور شاندار کامیابی اپنے نام کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: اسکواش میں پاکستان کی بتدریج واپسی، حمزہ خان گولڈن اوپن چیمپیئن شپ جیت گئے
ملائیشیا کے شہر کوچینگ میں جاری اس ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میں ناصر اقبال اور نور زمان پر مشتمل پاکستان کی جوڑی نے کوریا کے جیانگ من ریو اور جائیجن یو کو سخت مقابلے کے بعد 2-1 سے شکست دے دی۔
اس جیت کے بعد پاکستان نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے جہاں کل اس کا سامنا میزبان ملائیشیا سے ہوگا۔
گیمز کی تفصیلپاکستانی کھلاڑیوں نے اپنا پہلا گیم 11-3 سے جیتا جبکہ دوسرے میں کوریا 11-5 نے کامیابی حاصل کرلی۔ تاہم تیسرا اور فیصلہ کن گیم پاکستان کے نام رہا جس نے کورئین ٹیم کو 11-4 سے ہرادیا۔ قبل ازیں گروپ کے آخری میچ میں پاکستان نے چائنیز تائپے کو شکست دی تھی۔
مزید پڑھیے: علی سسٹرز نے کمال کر دکھایا، تینوں بہنیں آسٹریلین جونیئر اوپن اسکواش کے سیمی فائنل میں
سیمی فائنل میں ملائیشیا کے خلاف میچ ایک کڑا امتحان ہوگا کیونکہ میزبان ٹیم ہوم گراؤنڈ کا فائدہ بھی اٹھا سکتی ہے۔ مگر موجودہ فارم دیکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی جوڑی اچھی کارکردگی دکھائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایشین ڈبلز اسکواش ایشین ڈبلز اسکواش چیمپیئن شپ ایشین ڈبلز اسکواش کوارٹر فائنل ناصر اقبال اور نور زمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشین ڈبلز اسکواش ایشین ڈبلز اسکواش چیمپیئن شپ ایشین ڈبلز اسکواش کوارٹر فائنل ناصر اقبال اور نور زمان ایشین ڈبلز اسکواش سیمی فائنل میں
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔