دائیں تصویر میں مولانا ہدایت الرحمٰن بائیں تصویر میں ان کا کراچی میں لاپتہ ہونے والا 13 سالہ بیٹا عبدالباسط—تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا

رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن کا بیٹا کراچی میں لاپتہ ہو گیا۔

اس حوالے سے مولانا ہدایت الرحمٰن نے بتایا کہ میرا 13 سالہ بیٹا عبدالباسط کراچی کے علاقے ملیر میں زیر تعلیم ہے، شام 5 بجے مدرسے سے نکلا تھا، لیکن ابھی تک گھر واپس نہیں پہنچا، بیٹے کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

ایس ایس پی کورنگی کا کہنا ہے کہ مولانا ہدایت الرحمٰن کے بیٹے کے لاپتہ ہونے کی سوشل میڈیا پوسٹ دیکھ کر رابطہ کیا، کراچی میں ان کے رشتے داروں سے بھی فون پر بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے مولانا ہدایت الرحمٰن عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں

ایس ایس پی کورنگی نے بتایا ہے کہ مولانا ہدایت الرحمٰن کے بیٹے باسط کی گمشدگی کی رپورٹ اب تک درج نہیں کرائی گئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مولانا ہدایت الرحمٰن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ان سے واقعے کی تفصیل دریافت کی۔

وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے رابطہ کر کے مولانا ہدایت الرحمٰن کے بیٹے کی گمشدگی سے متعلق گفتگو کی اور بچے کی بازیابی کے اقدامات کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا۔

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بتایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پولیس اور متعلقہ اداروں کو کارروائی کی ہدایت کر دی ہے، مولانا ہدایت الرحمٰن کے فرزند کی گمشدگی پر گہری تشویش ہے، بچے کی بازیابی کے لیے سندھ حکومت سے رابطے میں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مولانا ہدایت الرحم ن کے کراچی میں

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن