غزہ میں اسرائیل-حماس جنگ بندی چند دنوں میں متوقع: ٹرمپ کے ثالث کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
غزہ میں اسرائیل-حماس جنگ بندی چند دنوں میں متوقع: ٹرمپ کے ثالث کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 June, 2025 سب نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر سرکاری ثالث بشارہ بہبہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ چند دنوں میں ممکن ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بشارہ بہبہ فلسطینی نژاد امریکی سیاسی کارکن ہیں اور انہوں نے مصر و قطر کے ساتھ مل کر ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مصری چینل الغد کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایران-اسرائیل جنگ بندی کے بعد اب غزہ ایک بار پھر خطے کی ترجیح بن چکا ہے۔
بشارہ کے مطابق، اصل اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ آیا عارضی جنگ بندی کے اختتام پر فریقین خودبخود مستقل جنگ بندی پر منتقل ہوں یا نہیں۔ حماس اس کی خودکار توسیع چاہتی ہے۔
بشارہ بہبہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں حماس کے رہنما غازی حمد سے بھی ملاقات ہو چکی ہے۔ جنگ بندی کے معاہدے کے علاوہ انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی لانا بھی مذاکرات کا ایک اہم نکتہ ہے، کیونکہ فی الوقت روزانہ صرف 60 ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، جو اقوام متحدہ کے مطابق ناکافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف تجاویز زیر غور ہیں، کچھ مکمل یرغمالیوں کی رہائی پر مبنی ہیں جبکہ کچھ جزوی رہائی کے فارمولے پر ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجلد بازی کی تعمیرات کی قلعی کھل گئی، سرینا چوک کے قریب سڑک بیٹھ گئی،تصاویر اور ویڈیوز سب نیوز پر جلد بازی کی تعمیرات کی قلعی کھل گئی، سرینا چوک کے قریب سڑک بیٹھ گئی،تصاویر اور ویڈیوز سب نیوز پر مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کا دورہ چین، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایران نے اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں مزید 3 افراد کو پھانسی دے دی ایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر امریکی حملے ناکام نکلے، خفیہ رپورٹ میں انکشاف غزہ: فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں 7 اسرائیلی فوجی ہلاک کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر فوجی حملہ، ایوان میں ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کی کوشش ناکامCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔