Jasarat News:
2026-06-03@02:40:47 GMT

او آئی سی کا اجلاس!

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گزشتہ روز اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے وزرائے خارجہ کونسل کے 51 ویں اجلاس کا انعقاد ترکیہ کے شہر استنبول میں ہوا، جس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں خطے کی خطرناک صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی ہے، مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی حملوں کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دو روزہ منعقدہ اس اجلاس کے اعلامیے میں ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کا ذکر تک نہیں۔ 1969ء میں مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے کے بعد مسلم امہ کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے57 اسلامی ممالک پر مشتمل تشکیل دیا جانے والا یہ ادارہ اپنے قیام سے اب تک مسلمانوں کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کراسکا، اس ادارے کے عمل کے دفتر میں سوائے قراردادیں منظور کرنے، مذمتی بیانات جاری کرنے، کمیٹیاں بنانے اور رپورٹس تیار کرنے کے کچھ نہیں۔ فلسطین میں آج بھی اسرائیلی مظالم جاری ہیں، شام، لیبیا، افغانستان، عراق اور دیگر اسلامی ممالک کی آزادی اور خودمختاری آن کی آن میں پامال کردی گئی اور یہ منہ دیکھتے رہ گئے، حد تو یہ ہے کہ یہ ادارہ عملی اقدامات اٹھانا تو دور کی بات ہے جارح ممالک پر سفارتی دباؤ تک ڈالنے میں ناکام رہا، کئی اہم ملی نوعیت کے مسائل پر یہ ادارہ اجلاس تک نہیں بلا پاتا اور جب کبھی اجلاس منعقد بھی ہو تو وہ نشستند، گفتند، برخواستند ثابت ہوتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اجلاس میں بلند و بانگ دعوؤں اور عزائم کا اظہار کیا جاتا ہے اور دھواں دھار تقریریں کی جاتی ہیں، ایسی ہی ایک تقریرحالیہ اجلاس میں ترک صدر رجب طیب اردوگان نے کی ہے، اپنے خطاب میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے پرامن حل کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کی مخالفت کرے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ استنبول کی تقدیر دمشق کی تقدیر سے الگ نہیں ہے، مکہ و مدینہ، اسلام آباد، تہران، قاہرہ، صنعا، بغداد، کابل، طرابلس اور یقینا بیت المقدس اور غزہ کی قسمت ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ متحد رہنا ہم سب پر فرض ہے۔ ایک عام مسلمان جب ان رہنماؤں کی تقریریں سنتا ہے تو عش عش کر اٹھتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے مسلم حکمران زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کچھ کرنے سے یکسر قاصر ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی حملے آج تک جاری ہیں، 55 ہزار سے زاید مسلمان بے دردی سے شہید کردیے گئے مگر کسی ایک مسلم ملک کو اسرائیل سے کم از کم سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی، حتیٰ کہ اردوگان کے اسرائیل کے خلاف مذمتی بیانات کے باوجود باہمی تجارت جاری رہی۔ مسلم حکمران او آئی سی کے پلیٹ فارم سے کچھ اور نہ سہی کم از کم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ وہ مسلم امہ کے مسائل پر مشترکہ موقف اختیار کریں، اقوامِ متحدہ، انٹر نیشنل کریمنل کورٹ اور دیگر عالمی فورموں پر سفارتی اقدامات کے ذریعے اسرائیل مظالم کو بند کروائیں اور اسرائیل سے مکمل طور پر سفارتی تعلقات منقطع کریں، ان عملی اقدامات کے بجائے محض خالی خولی زبانی جمع خرچ سے امت ِ مسلمہ کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یہ ہے کہ

پڑھیں:

فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان