Jasarat News:
2026-07-24@03:33:33 GMT

او آئی سی کا اجلاس!

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گزشتہ روز اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے وزرائے خارجہ کونسل کے 51 ویں اجلاس کا انعقاد ترکیہ کے شہر استنبول میں ہوا، جس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں خطے کی خطرناک صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی ہے، مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی حملوں کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دو روزہ منعقدہ اس اجلاس کے اعلامیے میں ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کا ذکر تک نہیں۔ 1969ء میں مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے کے بعد مسلم امہ کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے57 اسلامی ممالک پر مشتمل تشکیل دیا جانے والا یہ ادارہ اپنے قیام سے اب تک مسلمانوں کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کراسکا، اس ادارے کے عمل کے دفتر میں سوائے قراردادیں منظور کرنے، مذمتی بیانات جاری کرنے، کمیٹیاں بنانے اور رپورٹس تیار کرنے کے کچھ نہیں۔ فلسطین میں آج بھی اسرائیلی مظالم جاری ہیں، شام، لیبیا، افغانستان، عراق اور دیگر اسلامی ممالک کی آزادی اور خودمختاری آن کی آن میں پامال کردی گئی اور یہ منہ دیکھتے رہ گئے، حد تو یہ ہے کہ یہ ادارہ عملی اقدامات اٹھانا تو دور کی بات ہے جارح ممالک پر سفارتی دباؤ تک ڈالنے میں ناکام رہا، کئی اہم ملی نوعیت کے مسائل پر یہ ادارہ اجلاس تک نہیں بلا پاتا اور جب کبھی اجلاس منعقد بھی ہو تو وہ نشستند، گفتند، برخواستند ثابت ہوتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اجلاس میں بلند و بانگ دعوؤں اور عزائم کا اظہار کیا جاتا ہے اور دھواں دھار تقریریں کی جاتی ہیں، ایسی ہی ایک تقریرحالیہ اجلاس میں ترک صدر رجب طیب اردوگان نے کی ہے، اپنے خطاب میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے پرامن حل کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کی مخالفت کرے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ استنبول کی تقدیر دمشق کی تقدیر سے الگ نہیں ہے، مکہ و مدینہ، اسلام آباد، تہران، قاہرہ، صنعا، بغداد، کابل، طرابلس اور یقینا بیت المقدس اور غزہ کی قسمت ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ متحد رہنا ہم سب پر فرض ہے۔ ایک عام مسلمان جب ان رہنماؤں کی تقریریں سنتا ہے تو عش عش کر اٹھتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے مسلم حکمران زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کچھ کرنے سے یکسر قاصر ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی حملے آج تک جاری ہیں، 55 ہزار سے زاید مسلمان بے دردی سے شہید کردیے گئے مگر کسی ایک مسلم ملک کو اسرائیل سے کم از کم سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی، حتیٰ کہ اردوگان کے اسرائیل کے خلاف مذمتی بیانات کے باوجود باہمی تجارت جاری رہی۔ مسلم حکمران او آئی سی کے پلیٹ فارم سے کچھ اور نہ سہی کم از کم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ وہ مسلم امہ کے مسائل پر مشترکہ موقف اختیار کریں، اقوامِ متحدہ، انٹر نیشنل کریمنل کورٹ اور دیگر عالمی فورموں پر سفارتی اقدامات کے ذریعے اسرائیل مظالم کو بند کروائیں اور اسرائیل سے مکمل طور پر سفارتی تعلقات منقطع کریں، ان عملی اقدامات کے بجائے محض خالی خولی زبانی جمع خرچ سے امت ِ مسلمہ کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یہ ہے کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم