مسلمان سے شادی کرنے پر زندہ بھارتی لڑکی کی آخری رسومات ادا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک)بھارت میں مذہبی تعصب اور سماجی اقدار کے نام پر انتہاپسندی کی ایک اور چونکا دینے والی مثال سامنے آگئی۔
مغربی بنگال کے ضلع ندیا کے قصبے کرشنا گنج میں ایک ہندو خاندان نے اپنی زندہ بیٹی کی محض اس وجہ سے آخری رسومات ادا کردیں کہ اُس نے ایک مسلمان نوجوان سے محبت کی شادی کرلی۔
یہ افسوسناک واقعہ کھتورا اُترپارہ علاقے میں پیش آیا ہے، جہاں ایک لڑکی نے خاندان کی مرضی کے خلاف جا کر ایک مسلمان نوجوان سے شادی کرلی۔
مذکورہ لڑکی کرشنا گنج سدھیر رنجن لہری کالج میں فرسٹ ایئر کی طالبہ ہے اور پہلے بھی ایک بار اپنے اسی مسلمان محبوب کے ساتھ گھر سے بھاگ چکی تھی، لیکن تب گھر والے اُسے واپس لے آئے تھے اور انہوں نے جلد از جلد اس کی شادی اپنی مرضی کے لڑکے سے کروانے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔
تاہم لڑکی ایک بار پھر اپنے اسی محبوب کے ساتھ فرار ہوگئی اور اس بار باقاعدہ شادی بھی کرلی۔
لڑکی کے اس قدم سے اسکے خاندان میں شدید غصہ پھیل گیا، اور اس کے والد کو جب اپنی بیٹی کے اِس فیصلے کی اطلاع ملی تو انہوں نے شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنی زندہ بیٹی کو ‘مردہ’ قرار دے دیا۔
لیکن معاملہ صرف یہیں نہیں رکا بلکہ لڑکی کی شادی کے 12 دن بعد اس کے خاندان نے مکمل طور پر اُسے اپنی زندگی سے نکال باہر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہندو روایات کے مطابق اس کی آخری رسومات بھی ادا کردیں۔
ان رسومات میں مرد اہل خانہ کے سر منڈوائے گئے، پنڈتوں سے باقاعدہ تمام رسومات ادا کروائی گئیں اور آخری رسومات کے بعد پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لیے کھانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔
اس موقع پر لڑکی کا سارا سامان، کپڑے، کتابیں، تعلیمی اسناد، سب کچھ نذرِ آتش کر دیا گیا۔
لڑکی کی والدہ نے ‘ٹائمز آف انڈیا’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہماری بیٹی نے مسلمان لڑکے سے شادی کرکے ہمیں ذلیل و رسوا کردیا ہے، ہم نے جو اسکی آخری رسومات ادا کی ہیں وہ ہمارے احتجاج کا طریقہ ہے’۔
لڑکی کے چچا نے بھی میڈیا سے گفتگو کے دوران جذباتی انداز میں کہا کہ ‘اس نے ہمارے لیے کوئی چارہ نہیں چھوڑا تھا، اس نے خاندان کی عزت خاک میں ملا دی، اس لیے اب ہم نے اپنے لیے اُسے مردہ سمجھ لیا ہے’۔
یہ واقعہ نہ صرف سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے بلکہ مقامی افراد بھی خاندان کے اس اقدام پر ششدر ہیں۔
تاحال دونوں خاندانوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کوئی قانونی شکایت درج نہیں کی گئی، تاہم انسانی حقوق کیلئے سرگرم سماجی کارکنان اور باشعور حلقے اس واقعے کو انتہائی خطرناک سماجی رجحان قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ لڑکی اپنے شوہر اور سسرال والوں کے ساتھ خوش و خرم اور محفوظ زندگی گزار رہی ہے۔
کراچی: ملیر سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے 4 ایجنٹس گرفتار
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: آخری رسومات رسومات ادا
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔