شربت پینے سے ایک خاندان کے 7 بچے اسپتال پہنچ گئے، 2 کی حالت تشویشناک
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
پبی میں واقع جلوزئی مہاجر بازار میں زہریلا شربت پینے سے ایک ہی خاندان کے 7 بچوں کی حالت غیر ہوئی، بچوں کو طبی امداد کیلیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دو بچوں کی حالت کو ڈاکٹرز نے تشویشناک قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں مضر صحت شربت پینے سے ایک ہی خاندان کے 7 بچوں کی حالت غیر ہوگئی جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ نوشہرہ کے علاقے پبی میں واقع جلوزئی مہاجر بازار میں زہریلا شربت پینے سے ایک ہی خاندان کے 7 بچوں کی حالت غیر ہوئی، بچوں کو طبی امداد کیلیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دو بچوں کی حالت کو ڈاکٹرز نے تشویشناک قرار دیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق بچوں نے گرمی کے باعث محلے کی دکان سے مشترکہ طور پر شربت کی بوتل خرید کر اسے پیا تو ایک ساتھ ہی سب کی حالت غیر ہوئی۔ متاثرہ بچوں میں اقرا، خدیجہ، بی بی خولہ، ابوذرم بلال، اسماء اورگل رحمان سمیت دیگر شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شربت پینے سے ایک بچوں کی حالت کی حالت غیر خاندان کے 7
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔