Daily Ausaf:
2026-06-03@06:58:15 GMT

جنرل عاصم منیر کا دورہ امریکہ

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ ایک پیچیدہ مگر ناگزیر حقیقت رہے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے لے کر آج تک، واشنگٹن کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات میں اتار چڑھائو آتے رہے، مگر ہر دور میں خواہ وہ جمہوری حکومت ہو یا عسکری اقتدار امریکہ کو ایک تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھا گیا۔
1950 ء کی دہائی میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کی جانب سے امریکہ کو پہلے دورے کی ترجیح دینا اس تعلق کی بنیاد کا اظہار تھا۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور بعد ازاں جنرل مشرف نے بھی امریکہ سے فوجی و اقتصادی مفادات حاصل کرنے کے لیے سفارتی راستے اختیار کیے۔ ہر دورہ کسی نہ کسی داخلی بحران، بیرونی دبائو یا اسٹرٹیجک ضرورت کے پس منظر میں ہوا چاہے وہ سرد جنگ کے ایام ہوں یا نائن الیون کے بعد کی جنگی حکمتِ عملی۔اسی روایت کو جاری رکھتے ہوئے حالیہ دنوں میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کا دورہ امریکہ نہ صرف پاک امریکہ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہے بلکہ یہ دورہ بدلتی ہوئی عالمی سفارتی فضا، خطے میں سٹرٹیجک تبدیلیوں اور پاکستان کی داخلی سیاسی و اقتصادی ضرورتوں کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ دورہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں، بلکہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک طرف پاکستان معاشی چیلنجز، دہشت گردی کی نئی لہر، اور بین الاقوامی تنہائی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے تو دوسری طرف عالم اسلام ایک دشوار گزار مرحلے سے گزر رہا ہے۔ چنانچہ یہ سوال اہم ہے کہ آیا یہ دورہ پاکستان کے لیے کچھ خاطر خواہ نتائج کا حامل بھی ہوگا یا صدر امریکہ اور پاکستان کے آرمی چیف کے درمیان ایک فوٹو سیشن چند ملاقاتوں وہ بھی صرف ’’دکھاوے‘‘ کی اور بس ۔ اس کے نتائج عملی طور پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں؟ اور کیا جنرل عاصم منیر اپنے پیش روں سے ہٹ کر کوئی نئی راہ متعین کر پائے؟
جنرل ایوب خان نے اس وقت امریکہ کا دورہ کیا جب پاک امریکہ اتحادی تھے تبھی صدر جان کینیڈی نے شاندار استقبالئے کا بھی اہتمام کیا یوں سیٹو اور سینٹو معاہدوں کے تحت پاکستان کے امریکہ سے دفاعی امداد اور اسلحہ لینے کی راہ ہموار ہوئی۔وہ ایک باوقار اور ثمر بار دورہ تھا۔آمر ضیا کی افغان جہاد کے تناظر میں امریکہ سے پینگیں بڑھیں یوں سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی مشترکہ کاوشوں سے روس کے حلاف مزاحمت پروان چڑھی اور اقتصادی پیکیجز ،دفاع ‘کمک اور اسلحے کی آمد کا تسلسل دکھائی دیا۔
اس زعم میں امریکہ نے ضیا ء آمریت کی جمہوریت دشمنیوں سے بھی صرف نظر کیا۔آمر پرویز مشرف جمہوریت کو روندتا ہوا آیا تو اس نے مسلم لیگ (ن) کی جمہوری حکومت کی لاش پر کھڑے ہوکر امریکہ زندہ باد کا نعرہ لگایا اور متعدد بار امریکی دورے کئے اور وہ پاکستان کے لئے اربوں ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد کے حصول میں کامیاب ہوا بھلے اس نے اپنی داخلی اور خارجی صورت حال کو نہ صرف دہشت گردی کے حوالے کیا بلکہ قو می سالمیت اور خود مختاری کے کئی سوالات کھڑے کر دیئے۔
بعد ازاں یہ ہوا کہ امریکہ خود ہی پیچھے ہٹتا چلا گیا۔تب پاکستان امریکہ کی قربت کی بہت ساری قیمت ادا کرچکاتھا ۔موجودہ جنرل عاصم منیر کایہ دورہ عالمی صف بندی کے تناظر میں ہوا ہے ۔ بظاہر اس میں کسی طرح کا کوئی امریکی مطالبہ منصہ شہود پر نہیں آیا ،انسداد دہشت گردی ،دفاعی رابطوں اور اقتصادی معاملات کے گر د میل ملاقات گھومتے رہے ،کہیں کہیں اعتماد کی بحالی کا تاثر بھی چہرہ نمائی کرتا رہا مگر اس دورے کے فوری امور و رموز کسی سطح پر دکھائی نہیں دیئے۔
علاقائی تناظر میں دورے کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو امریکہ آج سے نہیں اول دن سے بھارت کو چین کے خلاف اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ڈیل کرتا رہا ہے یوں پاک امریکہ تعلق کا نیا سفر بھارت کے لئے یقینا گراں بار ۔ بھارت کبھی یہ نہیں چاہتا کہ کسی بھی فورم پر پاکستان کے کشمیریا دہشت گردی کے موقف کو قا بل سماعت گردانا جائے۔
جنرل عاصم منیر نے گو اس امرکا اعادہ کیا ہے کہ سی پیک اور چین کے ساتھ ناقابل تردید قومی مفادکا حصہ ہیں مگر امریکہ کی طرف پاکستان کے ایک بار پھر جھکائو کی روش اختیار کرنے پر پاک چین تعلقات میں ہلکی پھلکی سرد مہری کا خدشہ تو ہو ہی سکتا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کے یہ دورہ

پڑھیں:

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ شاہ رحیم الحسینی نے اپنے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران گلگت بلتستان اور چترال میں مریدوں سے اہم ملاقات کی ہیں تاہم ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا جب گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

شہزادہ شاہ رحیم الحسینی امامت سنبھالنے کے بعد پہلی بار 20 مئی کی شام اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور خاتونِ اوّل نے نور خان ایئر بیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ایوانِ صدر میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جبکہ اگلی صبح وزیراعظم نے انہیں ناشتے پر مدعو کیا۔ پرنس شاہ رحیم 22 مئی کو گلگت بلتستان پہنچے اور مریدوں سے ملاقات اور دیدار کا سلسلہ شروع ہوا۔

پرنس شاہ رحیم کا دورہ اور گلگت بلتستان الیکشن

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کا امامت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ ان کے دورے کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی گلگت بلتستان اور چترال میں ان کے مریدوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

پرنس رحیم نے ایک ایسے وقت میں گلگت بلتستان میں اپنے مریدوں سے ملاقات کی جب وہاں عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع تھی۔ اسماعیلی برادری کے دورے کا سیاست اور الیکشن سے کوئی تعلق ہے نہ ہی انہوں نے سیاست پر کوئی بات کی۔ انہوں نے اپنے مریدوں سے خطاب میں تعلیم، معاشیات، ہنر، موسمیاتی تبدیلی اور جدید دور کے تقاضوں پر بات کی، تاہم اس کے باوجود کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ان کے دورے کا الیکشن پر کچھ حد تک بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔

مریدوں کا جھکاؤ کس طرف ہو گا؟

آغا خان کے دورے اور گلگت بلتستان الیکشن پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر آغا خان پنجم کے دورے کا الیکشن پر کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق آغا خان کا خاندان غیر سیاسی ہے اور کبھی انہوں نے کسی ملک کی سیاست یا انتخابات پر بات کی ہے نہ ہی اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ دورے کے دوران بھی انہوں نے کہیں بھی سیاست پر بات نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:پرنس رحیم آغا خان کا پہلا سرکاری دورۂ پاکستان مکمل، خیرسگالی اور یکجہتی کا پیغام

نوجوان صحافی کامران علی جنہوں نے آغا خان پنجم کے دورے کی کوریج کی، کا کہنا ہے کہ پرنس رحیم نے اپنے مریدوں سے خطاب میں سیاست پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آغا خان نے سیاست پر بات نہیں کی، لیکن جن رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا اور عزت دی، ان کا گراف مریدوں کی نظر میں بلند ہو گیا۔ ’گلگت بلتستان میں اسماعیلی برادری کی خاصی آبادی ہے اور ان کے ووٹ کسی کی بھی جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘۔

کامران علی کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی بیٹی اور خاتونِ اول کے ساتھ خود نور خان ایئر بیس گئے اور آغا خان کا استقبال کیا۔ جب وہ ایوانِ صدر پہنچے تو بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان کا خیر مقدم کیا۔

کامران علی نے بتایا کہ جب آغا خان شاہ رحیم الحسینی کے والد شاہ کریم الحسینی کا انتقال ہوا تھا تو اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری تعزیت کے لیے پرتگال گئے تھے۔ ’اگرچہ آغا خان کا سرکاری سطح پر استقبال کیا جاتا ہے، لیکن آصف علی زرداری کی اہمیت مریدوں کی نظر میں بڑھ گئی ہے‘۔

کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا، لیکن مرید سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور امام کی عزت و وقار کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن میں کس کا پلہ بھاری ہے؟

ان کاکہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اگر آغا خان کے دورے کا سیاسی سطح پر کوئی فائدہ ہوا تو وہ پیپلز پارٹی کو ہو گا، کیونکہ انہوں نے اس دورے کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ وفاق میں صدر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے گورنرز نے ان کا بھرپور استقبال کیا‘۔

آغا خان کے دورے کا فائدہ کس حد تک ہو گا؟

اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس دورے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ذاکر خان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ اپنے امام کے دیدار کے لیے کراچی سے گئے تھے، نے بتایا کہ اس دورے کے دوران کہیں بھی انہوں نے سیاست پر بات نہیں کی۔

ذاکر کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جس طرح آغا خان کا استقبال کیا اور عزت دی، اس سے ان کی نظروں میں ان کی اہمیت بڑھ گئی۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ابھی تک اسے سیاسی طور پر استعمال نہیں کیا۔ ذاکر کا خیال ہے کہ اس دورے سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے دورے کے دوران پیش پیش رہ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ ’اسماعیلی برادری کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، وہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور ووٹ بھی میرٹ پر ہی دیتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن دیگر جماعتوں سے بھی اسماعیلی امیدوار میدان میں ہیں۔ ’اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار جماعت کے دفاتر یا دیگر نجی ملاقاتوں میں اس دورے کا ذکر کرتے ہیں اور اپنی جماعت کی طرف سے امام کو دیے گئے عزت و احترام کو ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں:تعلیم، برداشت اور اخلاقی رویوں سے انسانیت کی خدمت کی جائے، پرنس رحیم آغا خان کا  گلگت میں خطاب

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری الیکشن مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جبکہ نواز شریف بھی وہاں پہنچے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے آغا خان کو بہت عزت دی، لیکن الیکشن مہم میں اس کا ابھی تک براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جس جماعت نے امام کو عزت دی ہے، اس کا گراف اسماعیلی برادری میں بلند ہو گیا ہے تاہم یہ مقامی امیدواروں پر ہے کہ وہ اسے کیسے کیش کرتے ہیں‘۔

ذاکر نے بتایا کہ اس دورے کو سیاست کے ساتھ منسلک کرنے سے سیاسی امیدواروں اور جماعتوں کو نقصان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسماعیلی برادری کے لوگ مذہب کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں اور موقع پرستوں کو پسند نہیں کرتے۔

سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشات

اسماعیلی کونسل گلگت کی امورِ عامہ و سیکیورٹی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ کونسل ایک غیرسیاسی اور غیرجانبدار ادارہ ہے اور گلگت بلتستان اسمبلی کی جاری انتخابی مہم میں کسی سیاسی جماعت، امیدوار یا انتخابی گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتی۔

مقامی نیوز ویب سائٹ پامیر ٹائمز کے مطابق انتخابات سے قبل جاری بیان میں کمیٹی نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور آزاد امیدوار پورے خطے میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اسماعیلی کونسل ایک امامت کا ادارہ ہے جو سیاسی معاملات میں سخت غیرجانبداری برقرار رکھتی ہے اور کسی امیدوار یا جماعت کی توثیق نہیں کرتی۔

اسماعیلی کونسل نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شاہ رحیم الحسینی گلگت بلتستان کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے۔

بیان میں کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں، ان کے نمائندوں اور آزاد امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل جمہوری اقدار، باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور پرامن ماحول کے مطابق ہوگا۔

مزید پڑھیں:وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور

بیان میں مزید زور دیا گیا کہ ہر اسماعیلی ووٹر اپنے ضمیر، سیاسی سمجھ بوجھ اور ذاتی رائے کے مطابق آئینی حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آزاد ہے۔ اس پر زور دیا گیا کہ کونسل کسی فرد یا گروہ کو کسی خاص سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت کی ہدایت نہیں دیتی۔

اسماعیلی کونسل نے کمیونٹی کے افراد پر زور دیا کہ وہ انتخابی مدت کے دوران احترام، اتحاد، رواداری اور ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھیں، سیاسی وابستگیوں کو ذاتی معاملہ سمجھیں اور کمیونٹی کے اتحاد کو ترجیح دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف علی زرداری آصفہ بھٹو آغا الیکشن بلتستان پرنس پرنس رحیم آغا پیپلز پارٹی دورہ پاکستان رحیم عام انتخابات گلگت

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت