علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے خزاں سمسٹر کے داخلہ شیڈول کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2025ء) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے خزاں 2025سمسٹر کے داخلوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے جن میں میٹرک سے پی ایچ ڈی تک پروگرامز اور سرٹیفکیٹ کورسز شامل ہیں۔ ریجنل ڈائریکٹوریٹ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی فیصل آباد کے ترجمان نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے خزاں 2025 سمسٹر کے داخلوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے جن میں میٹرک سے پی ایچ ڈی تک پروگرامز اور سرٹیفکیٹ کورسز شامل ہیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے بتایا کہ یکم جولائی 2025 سے جاری ہونے والے سمسٹر میں ایسوسی ایٹ ڈگری لیول کے مختلف پروگرامز پہلی بار پیش کئے جارہے ہیں جن میں کیمسٹری،انوائر منٹل سائنسز،سٹیٹسٹکس،میتھی میٹکس،فزکس،ہیومن نیوٹریشن،ماس کمیونیکیشن،بزنس ایڈمنسٹریشن،اردو،پاکستان سٹڈیز، انگلش، جینڈر اینڈ وومن سٹڈیز،لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنسز،سوشیالوجی،اکنامکس اور ہسٹری شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی جانب سے طلبااور طالبات کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے تمام پروگرامز کی تفصیلات،پراسپیکٹس اور داخلہ فارم یونیورسٹی کی ویب سائٹ www.aiou.edu.pk پر یکم جولائی 2025 سے دستیاب ہونگے جبکہ مزید معلومات کیلئے ریجنل آ فس فیصل آباد سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔