عوامی ریلیف، صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے: وزیرِاعظم
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اصلاحات سے عوامی ریلیف اور صنعتوں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت بجلی کے شعبے کی جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
اجلاس کو بجلی کے شعبے کی پیدوار، ترسیل اور تقسیم پر جاری اصلاحات اور منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اسلام آبادوزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ.
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس میں ہدایت کی کہ نقصان کرنے والی جنکوز کی نیلامی کے دوسرے اور تیسرے مرحلوں کو جلد مکمل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جنکوز کی نیلامی کے عمل کو دیگر نج کاری کے پروگرامز کی طرح میڈیا پر براہِ راست نشر کیا جائے، اسمارٹ میٹرز کی تنصیب مکمل کر کے جلد رپورٹ پیش کی جائے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کا بلوچستان کے ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کا عمل مکمل ہو چکا، سولرائزیشن سے بلوچستان کے زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نج کاری کے عمل کو تیز کیا جائے، ملک بھر میں الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا عمل تیز کیا جائے، بجلی کے ترسیلی و ٹرانسمیشن نظام کی بہتری کے لیے مجوزہ منصوبوں پر کام جلد شروع کیا جائے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ موسمِ سرما میں بجلی صارفین کو نرخوں میں سہولت فراہم کی، قابلِ تجدید توانائی کے کم لاگت منصوبوں کی جلد تکمیل اولین ترجیح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف کیا جائے بجلی کی
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔