دشمن کو ایران سے جنگ میں اپنے انجام سے درس لینا چاہئے، لبنانی پارلیمانی سربراہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
پارلیمانی اجلاس کے دوران اپنے ایک خطاب میں محمد رعد کا کہنا تھا کہ پوری صیہونی دنیا کی قیمت شہید "سید حسن نصر اللہ" کے جوتے کے تسمے کے برابر بھی نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ لبنانی پارلیمنٹیرین "محمد رعد" نے کہا کہ صیہونی دشمن کو ایران کے خلاف جنگ میں اپنے انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔ کیونکہ اس کے بین الاقوامی حامی، امریکہ نے بھی حالیہ جارحیت میں مکمل ساتھ دینے کی ہمت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کی حفاظت نہ ہی دشمن اور نہ ہی اس ظالم کے حامی، بلکہ اس کی اپنی عوام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری صیہونی دنیا کی قیمت شہید "سید حسن نصر اللہ" کے جوتے کے تسمے کے برابر بھی نہیں۔محمد رعد نے کہا کہ ایران کی فتح کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اس خطے میں ناقابل تسخیر نہیں رہا۔ واضح رہے کہ محمد رعد، لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب الله" کے پارلیمانی دھڑے "الوفاء للمقاومۃ" کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے مذکورہ بالا خیالات کا اظہار پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم دوستی کے لئے ہر بڑھے ہاتھ کا استقبال کرتے ہیں۔ ہم نہ تو کسی پر حملہ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کے حملے کو قبول کرتے ہیں۔ محمد رعد نے کہا کہ لبنان کے خلاف دشمن کی جارحیت کے دوران ہم نے اپنی عوام میں انسانی ہمدردی تو دیکھی مگر حکومتی سطح پر قومی یکجہتی کا مشاہدہ نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔