وزیراعلیٰ پختونخوا کا صوابدیدی فنڈ 5 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
پشاور(اوصاف نیوز)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ میں کروڑوں کا اضافہ کردیا گیا، فنڈ کو 5 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال کیلئے صوابدیدی فنڈ 50 کروڑ روپے کردیا گیا,دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کیلئے 5 کروڑ روپے مختص تھے لیکن رواں مالی سال میں وزیراعلیٰ نے صوابدیدی فنڈ کی مد میں 50 کروڑ روپے خرچ کر ڈالے۔
دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے دوران تحائف اور تفریح کی مد میں بھی 11 کروڑ خرچ ہوئے، رواں مالی سال میں تحائف اورتفریح کی مد میں 3 کروڑ 50 لاکھ مختص تھے جبکہ نئے مالی سال کیلئے تحائف اورتفریح کی مد میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے بجٹ کا تخمینہ 3 کروڑ 85 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ نے سیکرٹ فنڈ چارجز کی مد میں بھی 15 کروڑروپے زائد خرچ کر ڈالے، رواں مالی سال وزیراعلیٰ کے سیکرٹ فنڈ چارجز کی مد میں 5 کروڑ روپے مختص تھے۔
غزہ میں اسرائیلی بربریت کا سلسلہ جاری، مزید 78 فلسطینی شہید ہوگئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: رواں مالی سال صوابدیدی فنڈ کروڑ روپے کی مد میں گیا ہے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔