جوہری پروگرام آگے بڑھے گا ،کسی بھی حملے کیلئے تیار ہیں: ایرانی پارلیمان
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
تہران (اوصاف نیوز)ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے۔
“پہلے سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھے گا”ایران
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق قالیباف نے آج بدھ کے روز کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام پہلے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ہے جب امریکی صدر اور ان کے قریبی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ کر دیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ حملے ضروری تھے تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکا جا سکے، اور مزید یہ کہ اہم جوہری مقامات “مکمل طور پر اور پوری طرح ختم کر دیے گئے ہیں۔”
اسی طرح امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کیے گئے ان حملوں کے مؤثر ہونے پر ایک بار پھر زور دیا۔ انھوں نے بدھ کے روز “پولیٹیکو” اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام کے مختلف بنیادی ستونوں کو بڑا اور جوہری نقصان پہنچا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ تہران اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت سے پہلے سے کہیں زیادہ دور ہو چکا ہے، اس وقت کی نسبت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین جوہری تنصیبات (فردو، نطنز، اصفہان) کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
لیکن ایک انٹیلی جنس جائزے کے مطابق، جو امریکی وزارت دفاع کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی “ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی” نے تیار کیا اور جسے منگل کے روز امریکی میڈیا میں شائع کیا گیا، ان حملوں نے فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر تباہ نہیں کیا، بلکہ صرف ایرانی جوہری پروگرام کو چند ماہ کے لیے مؤخر کیا ہے۔
اسرائیل ایران 12 روزہ جنگ
واضح رہے کہ 13 جون سے اب تک اسرائیل نے درجنوں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو ہلاک کیا۔ ان میں ایرانی فوج کے سربراہ محمد حسین باقری، پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی، اور “خاتم الانبیاء” ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی شادمانی شامل ہیں۔ شادمانی کو چند دن پہلے ہی اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔
اس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روز تک ایک غیر معمولی جنگ جاری رہی اور پھر منگل کے روز جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا گیا۔
بیجنگ کانفرنس میں پاک بھارت کشمکش: پاکستانی مشیر نے بھارتی بیانیہ بے نقاب کر دیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: جوہری پروگرام پہلے سے کے روز
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر