ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں کارگو ٹریکنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں کارگو ٹریکنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی سے کسٹم ایکٹ 1969 میں اہم ترامیم منظور کرا لیں، جس کے تحت جدید سسٹم نافذ کیا جائے گا جبکہ ملزمان کے لیے جرمانوں اور سزاؤں کا بھی تعین کیا گیا ہے۔
کسٹم ایکٹ میں منظور ترامیم کے مطابق اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کارگو ٹریکنگ سسٹم نافذ کیا جائے گا، ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے ٹریکنگ ڈیوائسز لگائی جائیں گی، ان ڈیوائسز سے چھیڑ چھاڑ پر 10 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ 6 ماہ قید بھی ہوگی۔ اس کے علاوہ بل میں سامان کی درآمد اور برآمد پر ای بلٹی سسٹم لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ ای بلٹی نہ کرانے پر 50 ہزار سے 5 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔
190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی، نیب کی استدعا منظور
ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ اسمگل شدہ سامان کی نیلامی سے حاصل رقم "کسٹمز کمانڈ فنڈ” میں جائے گی اور یہ فنڈز انسداد اسمگلنگ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوں گے۔ اس کے علاوہ کسٹمز بورڈ کسی چیک پوسٹ کو ’’ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن‘‘ قرار دے سکے گا۔ اس کے لیے قانون میں شق 225 اور 226 کا اضافہ جب کہ ڈیجیٹل انفورسمنٹ کے ضوابط وضع ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔