معاشی حب کراچی کو دانستہ تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، محمود مولوی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
سابق رکن قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کراچی کو بجلی کی منصفانہ، مستقل اور شفاف فراہمی یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور سخت اقدامات کریں کیونکہ یہ شہر صرف روشنیوں کا نہیں، بلکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے اور اسے اندھیرے میں دھکیلنا ملکی معیشت سے دشمنی کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق رکن قومی اسمبلی و سابق مشیر بحری امور محمود مولوی نے کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کی بے حسی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی حب کراچی کو دانستہ تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے کہ 3 یا 4 گھروں کی جانب سے بل ادائیگی نہ ہونے کی سزا پورے محلے کو دی جاتی ہے حالانکہ باقی تمام صارفین باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں۔ محمود مولوی نے انکشاف کیا کہ کے الیکٹرک کا عملہ خود بجلی چوری میں ملوث ہے، ان کے ملازمین نہ صرف کنڈے لگاتے ہیں بلکہ چوری کے طریقے بھی صارفین کو سکھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو چکی ہیں، فیکٹریاں اور دفاتر بند ہو رہے ہیں اور چھوٹے تاجروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بجلی کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے، یہی وجہ ہے کہ کراچی سے کاروبار دھیرے دھیرے پنجاب منتقل ہو رہا ہے جو کہ شہر قائد کی معیشت کے لیے ایک خطرناک علامت ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے فوری عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور کے الیکٹرک کی من مانیاں روکی جائیں۔
محمود مولوی نے سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی اور دیگر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے خلاف آواز بلند کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی مسئلہ ہے، جس پر سیاست سے بالاتر ہو کر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی اتنے بااثر ہوچکے ہیں کہ نہ سندھ حکومت کی پروا کرتے ہیں اور نہ ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو جوابدہ سمجھتے ہیں۔ محمود مولوی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کراچی کو بجلی کی منصفانہ، مستقل اور شفاف فراہمی یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور سخت اقدامات کریں کیونکہ یہ شہر صرف روشنیوں کا نہیں، بلکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے اور اسے اندھیرے میں دھکیلنا ملکی معیشت سے دشمنی کے مترادف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمود مولوی نے کے الیکٹرک کراچی کو انہوں نے بجلی کی کیا کہ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔