Islam Times:
2026-07-24@06:01:28 GMT

آج بھارت غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے گزر رہا ہے، کانگریس

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

آج بھارت غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے گزر رہا ہے، کانگریس

پریس کانفرنس سے خطاب میں کانگریس کمیٹی کے صدر نے کہا کہ ہر جگہ آر ایس ایس کے لوگوں کو بیٹھا رکھا ہے اور وہاں دوسروں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کر مودی حکومت کو کئی محاذ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مودی حکومت پر الیکشن کمیشن کو کٹھ پتلی بنانے اور عدلیہ پر دباؤ بنائے جانے کا سنگین الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی جانب سے عدلیہ پر دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سی بی آئی، انکم ٹیکس اور دیگر اداروں کو 11 سالوں سے اپوزیشن کا منہ بند کرنے کے کام پر لگایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024ء سے پہلے اراکین پارلیمنٹ کو معطل کر منمانے قانون بنائے گئے۔ پارلیمنٹ کی کارروائی سے یہ حکومت لگاتار بچنے کے لئے کم از کم میٹنگیں کر رہی ہے۔

الیکشن کمیشن سے متعلق ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے الیکشن کمیشن کو اپنی کٹھ پتلی بنا دیا ہے۔ اس کی ساکھ اور معتبریت چوپٹ ہو چکی ہے، وہ کسی بھی الیکشن کا پروگرام مودی کی پارٹی کی سہولت کو دیکھتے ہوئے طے کرتا ہے، وہ اپوزیشن کے سوالوں کا جواب بھی نہیں دیتا۔ مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہ راہل گاندھی (مہاراشٹر معاملے پر) اعداد و شمار کے ساتھ اپنی بات کہہ رہے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن ماننے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک کٹھ پتلی بن گئی ہے، جسے بی جے پی نے پکڑ رکھا ہے۔

کانگریس کمیٹی کے صدر کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں پارلیمنٹ انتخاب کے دوران ہم نے سیٹیں جیتیں، لیکن 5 ماہ بعد ہی اسمبلی انتخاب میں نمبر بدل گئے۔ 5 سال میں جب ووٹر لسٹ بدلتا ہے تو 3-2 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے، لیکن یہاں 5 ماہ میں ہی 8 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کئی انتخاب لڑے اور لوگوں کو لڑوائے، لیکن ایسا میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ انہون نے کہا کہ ہم لگاتار اس معاملے کو اٹھا رہے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں ہے، کیونکہ سبھی جگہ حکومت کا کنٹرول ہے، ہر جگہ آر ایس ایس کے لوگوں کو بیٹھا رکھا ہے اور وہاں دوسروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو کمزور کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو لگاتار کمزور کیا ہے۔ مودی اپوزیشن کے وزرائے اعلیٰ کو بلا کر بات نہیں کرتے، جی ایس ٹی کا بقایہ وقت پر نہیں ملتا، بجٹ کا پورا پیسہ نہیں دیا جاتا۔ جمہوریت کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ بی جے پی حکمراں ریاستوں کے لئے ایک قانون اور اپوزیشن حکمراں ریاستوں کے لئے دوسرا قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم قدرتی آفات کے وقت بھی اپوزیشن ریاستوں کی کبھی کھل کر مدد نہیں کرتے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن انہوں نے کہ مودی حکومت نہیں ہے کے لئے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن