اسلام آباد میں جائیداد کی ٹرانسفر سے متعلق 2 قوانین ہیں: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر—فائل فوٹو
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں جائیداد کی ٹرانسفر سے متعلق 2 قوانین ہیں، ایک رجسٹری کے ذریعے اور دوسرا سی ڈی اے ٹرانسفر کا قانون ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو بچوں سے بات نہیں کرنے دے رہے، نہ کتابیں ان کو دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں رجسٹری پر زیادہ ٹیکس کا نظام رائج ہے، دوسری جانب سی ڈی اے ٹرانسفر پر فیس کم ہے، میری تجویز ہے کہ اسلام آباد کے لیے ایک قانون لاگو کیا جائے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک قانون کے نفاذ سے کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہو گا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی نے کثرتِ رائے سے بیرسٹر گوہر کی ترمیم مسترد کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیئرمین پی ٹی ا ئی بیرسٹر گوہر کہ اسلام ا باد
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔