ایران پر امریکی حملے کے اثرات
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
بالآخر اسرائیل اور ایران کے درمیان سیز فائر ہوگیا ہے، لیکن اس جنگ بندی سے دو روز قبل اسرائیل کے اکسانے اور بہکانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملہ کرکے براہ راست اس جنگ میں شامل ہوگئے تھے۔ ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات جو نطنز، فردو اور اصفہان میں واقع ہیں پر اپنے B-2 طیاروں سے بنکر بسٹر بم گرائے۔
صدر ٹرمپ کے بقول دنیا کی کوئی اور فوج ایسا نہیں کر سکتی جو ہم نے کیا۔ انھوں نے فوجی کارروائی کو کامیاب قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے مذکورہ جوہری مقامات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب امن ہوگا یا ایران کے لیے سانحہ ہوگا۔ ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ایران نے امریکی حملے سے ایک روز قبل ہی یورینیم کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا تھا، اس لیے امریکی حملے کو پوری طرح کامیاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکی حملوں کے ردعمل میں کہا تھا کہ امریکا ہمارے جواب کا انتظار کرے اسے سزا بھگتنا پڑے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو دن پہلے کہا تھا کہ ہم دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کریں گے کہ آیا اپنے اتحادی اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے ایران پر حملہ کریں یا نہ کریں لیکن انھوں نے جلد بازی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مشتعل کرنے پر ایران پر حملہ کرکے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کا آغاز کر دیا جس کے تباہ کن نتائج و اثرات سے پوری دنیا متاثر ہوگی۔ جیساکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے دنیا کو تیل اور گیس کی سپلائی رک جائے گی اور عالمی معیشتیں غیر مستحکم ہونا شروع ہو جائیں گی۔ تیل و گیس کی عالمی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ ہو جائے گا بلکہ توانائی کا بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امریکا نے نتائج و اثرات کی پروا کیے بغیر ایران پر حملہ کرکے ایک نئے بحران اور کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ چین، روس، پاکستان، عرب ممالک، او آئی سی اور اقوام متحدہ نے امریکی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکا نے اقوام متحدہ و سلامتی کونسل کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، لیکن امریکا و اسرائیل جنگ سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔
ایران پر امریکی حملے سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی امریکا کو جنگ میں ملوث کرنے کی دلی خواہش پوری ہو گئی اسی باعث انھوں نے ٹرمپ کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ 13 جون کو جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اسے یقین تھا کہ ایران اسرائیلی حملوں کی تاب نہیں لا سکے گا اور جلد ہی ڈھیر ہو جائے گا لیکن ایران کے بزرگ رہنما علی خامنہ ای کے حکم پر ایرانی فوج نے اسرائیل پر ایسے خطرناک جوابی حملے کیے کہ اسے اپنی شکست نظر آنے لگی۔ خفت سے بچنے کے لیے نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیے بھڑکایا۔ ایران پر امریکی حملہ درحقیقت اسرائیل کی شکست ہے اب نیتن یاہو کو ایران کی جنگی برتری اور اپنی شکست کا اعتراف کر لینا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے خلاف امریکا میں مخالفت کی جا رہی ہے اور اسے ٹرمپ کی سیاسی غلطی قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی پیش کی گئی، لیکن فی الحال بچنے میںکامیاب ہوگئے۔ عوامی اور سیاسی سطح پر ٹرمپ کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جیساکہ انھوں نے انتخابی مہم کے دوران جاری جنگوں کے خاتمے، امن کے قیام اور کسی نئی جنگ کا آغاز نہ کرنے کے وعدے کیے تھے۔ اب ایران پر حملہ کرکے انھوں نے وعدہ خلافی کی اور اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے عراق پر امریکی حملے کی مذمت کی تھی اور صدر بش کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ کہتے تھے کہ وہ امریکی وسائل کو جنگوں میں نہیں جھونک سکتے اور اب خود ایران پر حملہ کرکے امریکا کو نئی جنگ کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ ویت نام سے لے کر افغانستان تک امریکا کو کسی جنگ میں من چاہی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ہر جنگ کا خاتمہ مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ کے خاتمے میں صدر ٹرمپ ہی نے مذاکرات کا راستہ اختیار کرکے خطے کو امکانی ایٹمی جنگ سے بچایا۔ دنیا بھر میں صدر ٹرمپ کے کردارکی تحسین کی گئی اور پاکستان نے سرکاری سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے امن کے نوبیل پرائز کی سفارش کا حیران کن فیصلہ کیا ۔ ٹرمپ فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت رکوانے میں ناکام رہے، یوکرین جنگ اب بھی جاری ہے، تنازعہ کشمیر حل نہیں کروا سکے اور اب ایران پر حملہ کر کے اس کی ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ مبصرین و تجزیہ نگار سوال اٹھا رہے ہیں کہ محض پاک بھارت جنگ رکوانے پر صدر ٹرمپ امن کے نوبیل پرائز کے حق دار قرار دیے جاسکتے ہیں؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران پر حملہ کرکے ایران پر حملہ کر امریکی حملے ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو پر امریکی انھوں نے کہ ایران ایران کے ٹرمپ کے تھا کہ کر دیا کے لیے
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو